Aal-i-Imraan
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ 116 مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِى هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَـٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ 117
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں کفایت کریں گے ان سے مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(116) مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں وہ اس زندگانیٔ دنیا میں مانند مثال سخت ہوا کی ہے، اس میں ہو سخت سردی، پہنچی وہ کھیتی کو ایک قوم کی، جس نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پر اور تہس نہس کر دیا اسےاور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے لیکن وہ اپنے نفسوں پر (خود ہی) ظلم کرتے تھے(117)
[117,116] اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی، یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے میں یا اللہ سے ثواب کے حصول میں معمولی سا بھی فائدہ نہیں دیں گی۔ جیسے فرمان الٰہی ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا:34؍37) ’’یہ تمھارے مال اور تمھاری اولادیں ايسی نہیں کہ جوتمھیں ہمارا قرب بخش سکیں، لیکن جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے (اسے قرب حاصل ہوگا)‘‘ بلکہ ان کے مال و اولاد جہنم کی طرف سفر میں ان کا زاد راہ ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں اضافے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کیا جائے، لیکن ان کے لیے یہ چیزیں شکر نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف حجت ہوں گی، اس لیے ان پر شکر نہ کرنے اور ناشکری کی پاداش میں انھیں سزا دی جائے گی۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تو جہنمی ہیں، جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘ پھر اللہ نے کافروں کے مال خرچ کرنے کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی کہ وہ لوگ مال خرچ کرکے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، تو یہ کوششیں ناکام رہیں گی، جیسے کوئی شخص فصل بوئے اسے اس کانتیجہ ملنے اور اس سے پیداوار حاصل ہونے کی امید ہو، اچانک کھیتی پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا چلے جس سے کھیتی تباہ ہوجائے۔ اس کے حصے میں صرف محنت، مشقت اور حسرت و افسوس ہی آئے۔ کافروں کا بھی یہی حال ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾(الانفال:8؍36) ’’بے شک کافر اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، یہ خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائیں گے، پھر یہ مغلوب ہوجائیں گے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ کہ ان کے عمل ضائع کردیے۔ ﴿وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ وہ اس طرح کہ انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے نورکو بجھانے کی کوشش کی۔ ان بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں اور مال تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد فرمایا: