Ar-Ra'd
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمُ ٱلْمَثُلَـٰتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلْعِقَابِ 6
اور وہ جلدی طلب کرتے ہیں آپ سے برائی (عذاب) پہلے بھلائی (رحمت) سےاور تحقیق گزر چکی ہیں پہلے ان سے مثالیں (عذاب کی)اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ مغفرت والا ہے واسطے لوگوں کے باوجود ان کے ظلم کےاور بے شک آپ کا رب ، البتہ سخت سزا والا ہے (6)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جن کو نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ ان پر دلائل قائم کیے گئے مگر انھوں نے ان دلائل کو نہ مانا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کھلم کھلا انکار کیا انھوں نے اللہ واحد و قہار کے حلم اور ان کے گناہوں پر فوری طور پر گرفت نہ ہونے کی و جہ سے استدلال کیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ انھوں نے رسول اللہﷺ سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ جلدی سے عذاب لے آئیں اور ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال: 8؍32)’’اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘﴿ وَقَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمُ الۡمَثُلٰتُ﴾ ’’اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے مثالیں ‘‘ اور حال یہ ہے کہ جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کے واقعات گزر چکے ہیں کیا وہ اپنے حال پر غور و فکر کر کے اپنی جہالت کو چھوڑ نہیں سکتے؟ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلۡمِهِمۡ﴾ ’’اور آپ کا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کرنے والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی بھلائی، اس کا احسان، اس کا کرم اور اس کا عفوودرگزر اس کے بندوں پر ہمیشہ نازل ہوتا رہتا ہے اور بندوں کی طرف سے ان کا شرک و عصیان اس کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے بندے اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ ان کو اپنے دروازے کی طرف بلاتا ہے، وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں مگر وہ انھیں اپنے فضل و احسان سے محروم نہیں کرتا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو وہ ان کا دوست ہے کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو وہ ان کا طبیب ہے، وہ ان کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ ان کو گناہوں سے پاک کردے۔ وہ کہتا ہے:﴿قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’کہہ دیجیے! اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ ان لوگوں کو جو اپنے گناہوں پر مصر رہتے ہیں ، جو اللہ غالب اور بخشنے والے کے پاس توبہ، استغفار اور التجا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ پس بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ان سزاؤں سے ڈرنا چاہیے جو وہ اہل جرائم کو دیتا ہے، اس کی پکڑ نہایت سخت اور دردناک ہے۔