Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · Abasa
Surah 80

Abasa

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 33–42

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ 33 يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ 34 وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ 35 وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ 36 لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ 37 وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ 38 ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ 39 وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ 40 تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ 41 أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ 42

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42)

[42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔