Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Furqaan
Surah 25

Al-Furqaan

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 51–52

وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا 51 فَلَا تُطِعِ ٱلْكَـٰفِرِينَ وَجَـٰهِدْهُم بِهِۦ جِهَادًا كَبِيرًا 52

اور اگر ہم چاہتے تو البتہ بھیجتے ہم ہر بستی میں ایک ڈرانے والا (51)پس نہ اطاعت کریں آپ کافروں کی اور جہاد کریں آپ ان سے قرآن کے ذریعے سے جہاد خوب زور سے (52)

[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد! (ﷺ)آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی و عجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔

[52] اس لیے ﴿فَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔‘‘ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجیے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لیے پوری کوشش کیجیے۔ ﴿ وَجَاهِدۡهُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور ان کے ساتھ جہاد کیجیے‘‘ ﴿ جِهَادًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’جہاد بہت بڑا۔‘‘ یعنی نصرت حق اور باطل کے قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ تکذیب اور جسارت پر جمے ہوئے ہیں تو آپ اپنی پوری کوشش کرتے رہیے، آپ ان کی ہدایت سے مایوس ہو کر اور ان کی خواہشات کی خاطر تبلیغ کو ترک نہ کیجیے۔