Al-Baqara
Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.
Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ 267 ٱلشَّيْطَـٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ 268
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)
[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکاۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جوبڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لیے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا ہے۔ (۷) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکاۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔