Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
Surah 2

Al-Baqara

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 220

فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْيَتَـٰمَىٰ ۖ قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ ۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 220

اور وہ پوچھتے ہیں آپ سے یتیموں کے بارے میں، کہہ دیجیے! اصلاح کرنا ان کی بہتر ہےاور اگر باہم ملا لو تم ان کو تو وہ بھائی ہیں تمھارے،اور اللہ جانتا ہے فسادی کو اصلاح کرنے والے سے،اور اگر چاہتا اللہ تو تکلیف میں ڈال دیتا تمھیں، بے شک اللہ بہت زبردست، حکمت والا ہے(220)

[220] جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا١ؕ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا﴾(النساء : 4؍10) ’’بے شک وہ لوگ جو ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے‘‘ تو یہ آیت کریمہ مسلمانوں پر بہت شاق گزری اور انھوں نے یتیموں کے کھانے سے اپنے کھانے کو اس خوف سے علیحدہ کر لیا کہ کہیں وہ ان کا کھانا تناول نہ کر بیٹھیں۔ اگرچہ ان حالات میں اموال میں شراکت کی عادت جاری و ساری رہی۔ پس صحابہ کرامyنے اس بارے میں رسول اللہﷺسے سوال کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ اصل مقصد تو یتیموں کے مال کی اصلاح، اس کی حفاظت اور (اضافے کی خاطر) اس کی تجارت ہے اگر ان کا مال دوسرے مال میں اس طرح ملا لیا جائے کہ یتیم کے مال کو نقصان نہ پہنچے تو یہ جائز ہے، کیونکہ یہ تمھارے بھائی ہیں اور بھائی کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے بھائی سے مل جل کر رہتا ہے۔ اس بارے میں اصل معاملہ نیت اور عمل کا ہے۔ جس کی نیت کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ وہ یتیم کے لیے مصلح کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسے یتیم کے مال کاکوئی لالچ نہیں، تو اگر بغیر کسی قصد کے اس کے پاس کوئی چیز آ بھی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جس کی نیت، اللہ کے علم میں، یتیم کے مال کو اپنے مال میں ملانے سے اس کوہڑپ کرنا ہو تو اس میں یقیناً حرج اور گناہ ہے اور قاعدہ ہے (اَلْوَسَائِلُ لَھَا اَحْکَامُ الْمَقَاصِدِ ) ’’وسائل کے وہی احکام ہیں جو مقاصد کے ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ماکولات و مشروبات اور عقود وغیرہ میں مخالطت (مل جل کر کرنا) جائز ہے اور یہ رخصت اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان اور ان کے لیے وسعت ہے۔ ورنہ ﴿وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعۡنَتَكُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو تمھیں دشواری میں مبتلا کر دیتا۔‘‘ یعنی اس بارے میں عدم رخصت تم پر بہت شاق گزرتی اور تم حرج، مشقت اور گناہ میں مبتلا ہو جاتے ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ قوت کاملہ کا مالک ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ لیکن بایں ہمہ وہ حکمت والا ہے، وہ صرف وہی فعل سرانجام دیتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کاملہ اور عنایت تامہ کرتی ہے۔ پس اس کی عزت و غلبہ اس کی حکمت کے منافی نہیں ہے لہٰذا اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے خواہ اس کی حکمت کے مطابق ہو یا مخالف ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یوں کہا جائے گا کہ اس کے افعال اور احکام اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو عبث پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے خواہ اس حکمت تک ہماری رسائی ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کوئی ایسا شرعی حکم مشروع نہیں کیا جو حکمت سے خالی ہو، اس لیے وہ صرف اس بات کا حکم دیتا ہے جس میں ضرور کوئی فائدہ ہو یا فائدہ غالب ہو اور اسی طرح منع بھی صرف اسی بات سے کرتا ہے جس میں یقینی نقصان یا نقصان کا غالب امکان ہو، اور ایسا اس لیے ہے کہ اس کا ہر کام حکمت اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔