Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
Surah 2

Al-Baqara

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 216

كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًٔا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّوا۟ شَيْـًٔا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 216

لکھ دیا گیا ہے تم پر لڑنااور وہ ناگوار ہے تمھارے لیےاور ممکن ہے کہ تم ناپسند کرو کسی چیز کو اور وہ بہتر ہو تمھارے لیےاور ممکن ہے کہ تم پسند کرو کسی چیز کو اور وہ بری ہو تمھارے لیےاور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(216)

[216] اس آیت کریمہ میں اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راستے میں (کافروں کے ساتھ) قتال فرض کیا گیا ہے اس سے قبل وہ ترک قتال پر مامور تھے کیونکہ وہ کمزور تھے اور قتال کے متحمل نہیں تھے۔ جب رسول اللہﷺہجرت فرما کر مدینہ منورہ آ گئے، مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی اور وہ طاقتور ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتال کا حکم دے دیا۔ ان کو یہ بھی بتا دیا کہ مشقت، تکان، مختلف قسم کے خوف اور ہلاکت کے خطرے کی وجہ سے نفس کو جہاد اور قتال ناپسند ہے۔ اس کے باوجود قتال خالص نیکی ہے جس میں بہت بڑا ثواب، جہنم کے عذاب سے حفاظت، دشمن پر فتح و نصرت اور مال غنیمت وغیرہ کا حصول ہے۔ یہ تمام چیزیں قتال کے ناپسند ہونے کے باوجود مرغوب ہوتی ہیں۔ ﴿وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡـًٔا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمۡ﴾ ’’اور شاید تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو‘‘ مثلاً: محض راحت اور آرام کی خاطر جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنا۔ یہ بہت بڑی برائی ہے اس کا نتیجہ پسپائی، اسلام اور مسلمانوں پر کفار کے تسلط، ذلت اور رسوائی، بہت بڑے ثواب سے محرومی اور جہنم کے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ یہ آیات کریمہ اس بات کی بابت عام ہیں کہ نیکی کے وہ کام جن کو نفوس ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نہ کرنے میں راحت اور لذت کا واہمہ ہے، وہ بلاشک بہت برے کام ہیں۔ (اس لیے کہ نیکی کے کام ہر صورت میں کرنے ضروری ہیں، پسند ہوں یا ناپسند) رہے دنیا کے حالات تو یہ اصول عام نہیں۔ لیکن غالب طور پر بندۂ مومن جب کسی معاملے کو پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جو اس کے اس خیال کو دور کر دیتے ہیں کہ یہ معاملہ اس کے لیے اچھا ہے۔ پس اس کے لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور فی الواقع خیر ہی کا اعتقاد رکھے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے۔ اور اپنے بندے کے مصالح کی اس سے کہیں زیادہ دیکھ بھال کرتا ہے جتنی دیکھ بھال بندہ خود کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ بندے سے زیادہ اس کے مصالح کو جانتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ لہٰذا تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ ساتھ چلو، خواہ تمھیں اچھے لگیں یا برے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ نے قتال کا (مطلق) حکم دیا ہے اور اگر اس حکم کو مقید نہ کیا جائے تو اس میں حرام مہینوں میں قتال بھی شامل ہو جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان حرام مہینوں کو مستثنی قرار دے دیا۔ چنانچہ فرمایا: