دُنیا کی مُذَمَّت کا بیان
Terjemahan ini milik penterjemahnya, bukan milik Sabīl. Ia dipaparkan sebagaimana sumbernya memberikannya, sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuk penterjemah sendiri: ia tidak berdiri baris demi baris di sisi teks Arab, dan membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menyemaknya terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.
Diterjemah oleh Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںDibaca daripada dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)diambil pada 2026-10-22
Apa yang sumber katakan tentangnya: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
(اس میں ایک مقدمہ اور تین ابواب ہیں)
مُقَدَّمَہ:
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنےاولیا کو دنیا کے فتنوں اور آفات کی پہچان کرادی، اس کے عیبوں اورقباحتوں کو ان کے لئے ظاہر فرمادیاحتّٰی کہ جب انہوں نے اس کے شواہد اور نشانیوں میں غوروفکر کیا اور اس کی اچھائیوں کا برائیوں سے مُوازَنہ کیا تو انہوں نے جان لیا کہ اس کی بُرائیاں اچھائیوں پر غالب ہیں،اس کا خوف اس کی امیدوں سے بڑھ کر ہےاور یہ دنیافنا ہونے سے محفوظ نہیں،یہ ایک خوبصورت عورت کے روپ میں لوگوں کو اپنی خوبصورتی کی طرف مائل کرتی ہےجبکہ اس میں پوشیدہ برائیاں اس کے حصول میں رغبت رکھنے والوں کو ہلاک کرتی ہیں،یہ اپنے طالِبِیْن سے دور بھاگتی اور اپنی طرف آنے کا لالچ دیتی ہے، جب کوئی اس کی طرف متوجہ ہوتاہےتو وہ اس کے شر اور وبال سے محفوظ نہیں رہ پاتا،اگر ایک گھڑی بھلائی کرتی ہے تو سال بھر برائی سے پیش آتی ہےاور اگر ایک بار بُرائی سے پیش آئے تو سال بھرمسلسل برائی ہی سے پیش آتی ہے،اس کی توجہ کے دائرے اس قدر قریب ہیں کہ گویا وہ ایک دائرہ معلوم ہوتے ہیں،اس کی تجارت خسارے اور نقصان کا باعث ہوتی ہے،اس کی آفات مسلسل ہوتی ہیں کیونکہ اس کے طالِب ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں،طالِبِ دنیا پر اس کے راستے بھی ذِلَّت کی گواہی دیتے ہیں کیونکہ جو بھی اس کے مکر وفریب میں مبتلا ہوتا ہے ذِلَّت اس کا ٹھکانا ہوتی ہےاورجو اس کے سبَب تکبُّر کرتا ہے حسرت اس کی منزل ہوتی ہے ۔
اس کا کام طالِبِ دنیا سے بھاگنا اور دنیا سے منہ موڑنےوالے کو تلاش کرناہے،جو اس کا خادم بنتاہے یہ اسے چھوڑدیتی ہےاور جو اس سے اِعراض کرتاہے اس کے پاس چلی آتی ہے،اگر یہ باہر سےصاف بھی ہو تو اندر سے گندگیوں کے میل سے خالی نہیں ہوتی،اس کی خوشی پریشانیوں سےبھرپور ہوتی ہے،اس کی تندرستی اپنے پیچھے بیماری لاتی ہے،اس کی جوانی بڑھاپے کی طرف لے جاتی ہے،اس کی نعمتیں حسرت اور نَدامت کے علاوہ کچھ نہیں،یہ دنیا دھوکے باز،مکار،اڑنےوالی اوربھاگنے والی ہے،اپنے چاہنے والوں کے لئے ہمیشہ بن سنورکر رہنےوالی ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کےدوست بن جاتے ہیں تو یہ ان پر (دھوکے میں مبتلا ہونے کے سبَب)ہنستی ہے،اپنے
مُزَیَّن جال ان پر ڈالتی اورحیرت انگیز پوشیدہ خزانے ان کے لئے کھولتی ہے،پھر انہیں اپنے زہْرِ قاتِل سے ہلاکت کا مزا چکھاتی ہے،دنیا دار خوشی اور نعمتوں میں ہوتے ہیں تویہ یک دم ان سے منہ پھیر لیتی ہے گویا کہ وہ خوشی ونعمتیں خواب ہوں پھر ان پر حملہ کرتی اور اپنے تیروں سے زخم لگاتی ہے، جب حملہ آور ہوتی ہے تو کٹنے کے بعدپِسی ہوئی کھیتی کی طرح پیس کر رکھ دیتی اور انہیں کفن پہنا کر زیرِ زمین پہنچادیتی ہے،اسی طرح اگر کسی کی ملکیت میں پوری دنیا آجائے تو اسے بھی کٹی ہوئی کھیتی کی طرح کاٹ دیتی ہے گویاکہ کل اس کا وجود ہی نہ تھا،اس کے چاہنے والے خوشی کی امید رکھتے ہیں لیکن یہ ان کے ساتھ خیانت کرتی ہےکہ وہ بہت زیادہ اس دنیا سے امیدیں وابستہ رکھتے اور عالی شان محلات تعمیر کرتے ہیں جبکہ ان کی صبح قبر میں ہوتی ہے،ان کا جمع شدہ مال ہلاک وبرباد ہوجاتا ہے،ان کی کوشش باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرات کی طرح ہوتی ہے،ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔
یہ ہے اس دنیا کی حقیقت اور اللہ عَزَّ وَجَلّ کا حکم ہوکر رہنا ہےاور درود اورخوب سلام ہوہمارے سردارحضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرجو اللہ عَزَّ وَجَلّ کے بندے اوررسول ہیں جنہیں تمام عالَم کی طرف خوشخبری دینے والا،ڈر سنانے والااور روشن چراغ بناکر بھیجا گیا ہےاور آپ کے آل واصحاب پر بھی درود وسلام ہو جو دین کے مددگار اور دشمنوں کے خلاف (آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے) مددگارہیں ۔
دنیا سب کی دشمن ہے:
یہ دنیا اللہ عَزَّ وَجَلّ اوراس کے اولیاکی دشمن ہے،نیز اللہ عَزَّ وَجَلّ کے دشمنوں کی بھی دشمن ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ کی دشمن اس طرح ہے کہ یہ بندگانِ خدا کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے نہیں دیتی،اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلّ نے جب سے اسے پید ا کیا ہے اس کی طرف نظرعنایت نہیں فرمائی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ کے اولیا کی دشمن اس طرح ہےکہ ان کے سامنے بن سَنْوَر کر آتی ہے اورخودکو خوشنما اور تروتازہ دکھاتی ہے یہاں تک کہ انہیں اس سے رُکنے میں صبر کے کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ کےدشمنوں کی دشمن اس طرح ہے کہ اپنے مکروفریب کے ذریعے آہستہ آہستہ انہیں اپنے جال میں پھنساتی ہے،جب وہ اس کے جال میں پھنس جاتے اور اس پر اِعتماد کربیٹھتے ہیں تو یہ انہیں ذِلَّت وخواری میں مبتلا کردیتی اور پہلے سے زیادہ محتاج کردیتی ہے ۔ اب اگر وہ اس سے کنارہ کشی کرتے ہیں تو حسرت وندامت ہی ان کامقدر ہوتی ہے ۔ ان کے جگر کے ٹکڑےٹکڑے ہو
جاتے ہیں پھر وہ ہمیشہ کے لئےخوش بختی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس کی جدائی پر حسرت کا اظہار کرتے اور اس کے مکروفریب سے بچنے کے لئے مدد طلب کرتے ہیں لیکن ان کی مدد نہیں کی جاتی بلکہ انہیں (رب عَزَّ وَجَلّ کی طرف سے )کہاجاتاہے: دُھتکارے پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو ۔ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مَوْل لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکاہو اور نہ ان کی مدد کی جائے ۔
جب دنیاکی آفات اور اس کے شربہت زیادہ ہیں تو ضروری ہے کہ پہلے دنیا کی حقیقت جان لی جائے کہ دنیا کیاہے؟اوردشمن ہونے کے باوجوداِسے پیداکرنے کا کیامقصدہے؟اس کے دھوکے اور شر کا راستہ کیاہے؟کیونکہ جو شر کے متعلق نہیں جانتا وہ شر سے بچ نہیں پاتااور قریب ہوتاہے کہ وہ شر میں مبتلا ہوجائے ۔ اب ہم اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا کی مذمت،اس کی مثالیں ، اس کی حقیقت و معانی کی تفصیل اور اس میں مشغول لوگوں کی اقسام،نیز اس کی حاجاتِ ضَرُوْرِیّہ کی وجہ ذکر کریں گےاور اس بات کوبھی بیان کریں گے کہ مخلوق دنیاکے فضول مشاغل میں مصروف ہونے کے سبَب اللہ عَزَّ وَجَلّ سے پھر گئی ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ ہی اپنی رضا کی باتوں پر مددگارہے ۔
باب نمبر1: دنیا کی مذمت کے متعلق روایات
(اس میں دوفصلیں ہیں )
دنیا کی مذمت میں قرآن پاک کی بہت سی آیات وارد ہیں اور قرآن پاک کا اکثر حصہ دنیا کی مَذمَّت، مخلوق کو اس سےدوررکھنےاور آخرت کی طرف بلانےپر مشتمل ہےاورانبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تشریف آوری کا مقصد بھی یہی تھا ۔ قرآن پاک کی آیات اس سلسلے میں بالکل ظاہر ہیں انہیں ذکرکرنے کی حاجت نہیں، لہٰذا ہم صرف اس کے متعلق مروی روایات کو ذکر کرتے ہیں ۔
پہلی فصل: دنیا کی مَذَمَّت میں مروی 46 روایات
اللہ عَزَّ وَجَلّ کے نزدیک دنیا کی قدروقیمت:
(1)…ایک دن رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا:” کیا تم جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے گھر والوں کے نزدیک کس قدر حقیر ہے؟ “صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: اسی حقارت کی وجہ سے تو انہوں نے اسے یہاں پھینکا ہے ۔
ارشاد فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! جس قدر یہ بکری اپنے گھر والوں کی نظر میں حقیر ہے، اللہ عَزَّ وَجَلّ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔ اگر دنیا کی قدر و قیمت اللہ عَزَّ وَجَلّ کے نزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی توکسی کافر کوپانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ۔ (1 )
(2)… اَلدُّنْیَاسِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْــکَافِر یعنی دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے ۔ (2 )
(3)… اَلدَّنْیَامَلْعُوْنَةٌ مَّلْعُوْنٌ مَّا فِیْھَااِلَّامَاکَانَ لِلّٰہِ مِنْھَا یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ملعون ہے سوائے اس کے جو اللہ عَزَّ وَجَلّ کے لئے ہو ۔ (3 )
(4)…جوشخص اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے، پس فنا ہونے والی پر باقی رہنے والی کو ترجیح دو ۔ (4 )
(5)… حُبُّ الدُّنْیَارَأْسُ کُلِّ خَطِیْئَةٍ یعنی دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے ۔ (5 )
سیِّدُناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ کی گریہ وزاری:
(6)…حضرت سیِّدُنا زید بن ارقم رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ہم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر تھے،آپ نے پانی منگوایا، تو شہد ملاپانی پیش کیا گیا ۔ جب آپ نے اسے اپنے منہ کے قریب کیا تو رو پڑے اوراتنا روئے کہ دیگر لوگوں کو بھی رُلادیا، پھرلوگ تو خاموش ہوگئے مگر آپ مسلسل روتے رہے حتّٰی کہ لوگ خیال کرنے لگے کہ ہم آپ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کچھ پوچھ نہیں سکیں گے ۔ پھر آپ نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے تو لوگوں نے عرض کی:اے خلیفۂ رسول رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !آپ کو کس بات نے رُلایا؟ارشادفرمایا:میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کسی چیز کو اپنے سے دور فرما رہے ہیں حالانکہ مجھے کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی،میں نے عرض
کی:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کس چیز کو خودسے دور فرما رہے ہیں؟ارشادفرمایا: یہ دنیا ہے جو مثالی صورت میں میرے سامنے آئی، میں نے اس سے کہا: مجھ سے دور ہو جا تووہ دوبارہ آ کر کہنے لگی: اگر چہ آپ مجھ سے دور ہو جائیں گے لیکن آپ کے بعد والے مجھ سے دور نہیں ہوسکیں گے ۔ (6 )
[1] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی ھوان الدنیا علی اللّٰہ ، ۴ / ۱۴۴ ، حدیث : ۲۳۲۷ ، ۲۳۲۸
[2] مسلم ، کتاب الزھد والرقائق ، ص ۱۵۸۲ ، حدیث : ۲۹۵۶
[3] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی ھوان الدنیا علی اللّٰہ ، ۴ / ۱۴۴ ، حدیث : ۲۳۲۹
[4] المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند المکیین ، حدیث ابی موسیٰ الاشعری ، ۷ / ۱۶۵ ، حدیث : ۱۹۷۱۷
[5] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ذمّ الدنیا ، ۵ / ۲۲ ، حدیث : ۹
[6] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ذم الدنیا ، ۵ / ۲۴ ، حدیث : ۱۱
(7)…اس شخص پر بہت تعجب ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے لیکن دھوکے والے گھر( دنیا) کے لئے کوشش کرتا ہے ۔ (1 )
(8)…مروی ہےکہ ایک مرتبہ حضورنبیّ اکرم،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچرے کے ایک ڈھیرکے پاس کھڑے ہوئے اور ارشادفرمایا:آؤ دنیا کی طرف، پھر اس ڈھیر سے کپڑے کا ایک بوسیدہ ٹکڑا اور گلی ہوئی ہڈی اٹھائی اور ارشاد فرمایا:یہ ہے دنیا ۔ (2 )
اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا کی زینت عنقریب کپڑے کے اس ٹکڑے کی طرح بوسیدہ ہوجائے گی اور جسم جو اس دنیا میں دکھائی دے رہاہے عنقریب گلی ہوئی ہڈیوں میں تبدیل ہوجائے گا ۔
(9)…مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلّ نے تمہیں اس میں باقی رکھا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ۔ جب بنی اسرائیل کے لئے دنیا خوب آراستہ وپیراستہ کی گئی اور پھیلادی گئی تو وہ زیورات، عورتوں، خوشبو اور کپڑوں میں مست ہو گئے ۔ (3 )
(10)…حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ا رشاد فرمایا: دنیا کواپنا آقا نہ بناؤ ورنہ وہ تمہیں اپنا غلام بنالے گی، اپنا مال اس کے پاس جمع کرو جو اسے ضائع نہیں کرتا کیونکہ جس کے پاس دنیا کا خزانہ ہو اسے آفت کا ڈررہتا ہےجبکہ اللہ عَزَّ وَجَلّ کے پاس مال جمع کروانے والے کو آفت کا خوف نہیں ہوتا ۔
(11)… حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے ا رشاد فرمایا:اے حواریو!میں نے تمہارے لئے دنیا کو اوندھا کردیا ہے میرے بعد اسے اٹھاکر کھڑا نہ کرنا ۔ دنیا کی خرابی یہ ہے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی جاتی ہے
[1] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ذم الدنیا ، ۵ / ۲۵ ، حدیث : ۱۴
[2] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ذم الدنیا ، ۵ / ۲۷ ، حدیث : ۱۹
[3] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ذم الدنیا ، ۵ / ۲۸ ، حدیث : ۲۰
اوراس کو اپنانے والا آخرت کو حاصل نہیں کرسکتاتو خبردار !دنیا کو گزرگاہ بناؤ اس کی تعمیر نہ کرواوریہ جان لوکہ دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہےاور کبھی گھڑی بھر کی شہوت انسان کے لئے طویل غم کا باعث ہوتی ہے ۔
Teks daripadaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472diambil pada 2026-10-21
Ini ialah teks Arab Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn karya al-Ghazālī sebagaimana ada dalam korpus OpenITI, daripada salinan Shamela bagi edisi Dār al-Maʿrifa. Tiada sesiapa membandingkannya dengan buku bercetak atau manuskrip, dan tiada ulama menelitinya. Korpus itu menyatakan bahawa di beberapa halaman sebahagian teks hilang dan nota kaki penyunting bercampur dengan teks; kedua-duanya dipaparkan seadanya. Halaman edisi bercetak ditandai di tempat ia berakhir. Terjemahan-terjemahan itu milik penterjemahnya; setiap satu dibaca daripada salinan yang dinamakan bersamanya dan dipaparkan sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuknya sendiri: tiada satu pun disusun baris demi baris di sisi teks Arab, terjemahan Inggeris Karim meringkaskan kitab sebagaimana kata penterjemahnya, dan setiap satu membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menterjemah apa-apa, tidak menyemak mana-mana terjemahan terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.