ریاضت نفس⁽¹⁾ کابیان
Terjemahan ini milik penterjemahnya, bukan milik Sabīl. Ia dipaparkan sebagaimana sumbernya memberikannya, sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuk penterjemah sendiri: ia tidak berdiri baris demi baris di sisi teks Arab, dan membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menyemaknya terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.
Diterjemah oleh Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںDibaca daripada dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)diambil pada 2026-10-22
Apa yang sumber katakan tentangnya: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
(اس میں ایک مقدمہ اور دوابواب ہیں)
مقدمہ:
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلّ کے لئےہیں جس نے اپنی تدبیر سے اُمور میں تَصَرُّف فرمایا، مخلوق کی ترکیب میں اِعْتِدال قائم کرتے ہوئے اس کی صورت میں حُسن رکھا، انسانی صورت کو اچھے قالب سےزینت دی ۔ اسے شکل وصورت اور مقدار میں کمی زیادتی سے محفوظ رکھا، اَخلاق کو اچھا بنانے کا کام بندے کی کوشش میں رکھا ۔ اسے ڈراتے ہوئے اَخلاق کوسنوارنےکی ترغیب دی اور اپنی توفیق کے ذریعے اپنے خاص بندوں پراَخلاق کو سنوارنےکا عمل آسان کردیا اور مشکل ودشوارکاموں کوان پر آسان کرتے ہوئے احسان فرمایا ۔ درودوسلام ہو اللہ عَزَّ وَجَلّ کے بشیرو نذیرمحبوب بندےحضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ۔ نَبُوَّت کے اَنوار اُن کی مُقَدَّس پیشانی کے درمیان چمکتے ہیں اور حقیقت ِ حَقّ اُن کی بشارتوں سے جھلکتی ہے اوردُرُوْد و سلام ہو ان کے آل واصحاب پر جنہوں نے اِسلام کے رُخِ روشن کو کفر کی سیاہی اورتاریکی سے پاک کیااور باطل کے مادے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا اور اس کی مَیْل سے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، خود کو محفوظ رکھا ۔
حُسنِ اخلاق رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صِفَت اور صِدِّیْقِیْن کااَفضل عمل ہے ۔ درحقیقت یہ نِصْف دین اورمُتَّقِیْن کے مجاہدے کا ثمر ونتیجہ اور عبادت گزار وں کی ریاضت ہے جبکہ بُرے اَخلاق زہر قاتل ،جان لیوا،ذِلَّت ورُسوائی اور رب عَزَّ وَجَلَّ کے جوارِ رحمت سے دوری جیسی برائیوں پر مشتمل ہیں ۔ نیزبداخلاقی انسان کو شیطانی گروہ میں داخل کرتی ہے،یہی وہ دروازے ہیں جو اللہعَزَّ وَجَلَّ کی جلائی ہوئی آگ کی طرف کھلتے ہیں جو دلوں پر چڑھتی ہے ۔ جیساکہ اچھے اخلاق وہ دروازے ہیں جو دلوں سے جنت کی نعمتوں اور رب تعالیٰ کے جوارِ رحمت کی طرف کھلتے ہیں ۔ بُرے اخلاق جسم وروح کی وہ بیماریاں ہیں جن سےابدی حیات ختم ہوجاتی ہے اس مرض کا ان سے کیا مقابلہ جو صرف حیات ِ جسمانی کو زائل کرتاہے ۔ جب اَطِبّا اس بات کی سخت ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ بدن کے لئے قوانین مقرر کئے جائیں حالانکہ بدن کی
[¹ ] نفس کو اچھے اخلاق کی تعلیم دینے کا نام ریاضت ہے ۔(الحديقة الندية ، ۱ / ۴۵۲)
بیماری سے صرف فانی زندگی ہی ختم ہوتی ہے تو قلبی امراض کے لئے علاج کے قوانین کے سلسلے میں کوشش کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دل کی بیماری میں دائمی وابدی زندگی ختم ہوجاتی ہے،لہٰذا اس روحانی علاج کا سیکھنا ہر عقل مند آدمی پر لازم ہے کیونکہ کوئی بھی دل بیماریوں سے خالی نہیں ہوتا اگر دلوں کو یوں ہی بلا علاج چھوڑ دیا جائے تو کئی بیماریاں پیدا ہوں گی اور وہ غالب آجائیں گی،توہر بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان بیماریوں کی وجوہات اوراسباب کو پہچانے اوران کے علاج کی اَنتھک کوشش کرے اسی علاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) (پ۳۰،الشمس:۹)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا ۔
اور اسے چھوڑ دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰) (پ۳۰،الشمس:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چُھپایا ۔
ہم اس باب میں دل کی بیماریوں اور مجموعی طور پر ان کے علاج کے بارے میں بتائیں گے،خاص بیماریوں کے علاج کی تفصیل میں نہیں جائیں گے، تفصیلی بیان اس باب کے دوسرے حصوں میں آئے گا اور ہمارا یہاںمقصوداخلاق کو سنوارنے اور اس کے طریقے کو بیان کرنا ہے ۔ اب ہم اسے بیان کرتے ہیں اور بدن کے علاج کو اس کی مثال قرار دیتے ہیں تاکہ سمجھنا آسان ہواور یہ بات حُسنِ اخلاق کی فضیلت بیان کرنے سے واضح ہوگی، پھر حُسنِ اَخلاق کی حقیقت بیان ہوگی، اس کے بعد ان اخلاق کی قبولیت جو ریاضت سے بدل جاتے ہیں پھر اُس سبب کا بیان ہوگا جس کے ذریعے حُسنِ اَخلاق حاصل ہوتا ہے، پھر ان طریقوں کو بیان کیا جائے گا جن کے ذریعےاخلاق کو سنوارنے کے راستوں کی پہچان ہوتی اور ریاضت ِ نفس کا پتا چلتا ہے ۔ پھر وہ علامات بیان ہوں گی جن کے ذریعے دل کی بیماری کی پہچان ہوتی ہے، اس کے بعد ان طریقوں کا بیان ہوگا جن کے ذریعے انسان اپنے نَفْس کے عیبوں کو پہچان لیتا ہے، پھر اس بات پر نقلی دلائل پیش کئے جائیں گے کہ دلوں کا علاج صرف خواہشات کو چھوڑنے میں ہے، بعد ازاں حُسنِ اخلاق کی علامات کا بیان ہوگا، اس
کے بعد بچوں کی ابتدائی پرورش کے دوران ان کی تربیت کا طریقہ بیان کیا جائے گا، پھر ارادے کی شرائط اور مجاہدے سے پہلے کے جو امور ہیں ان کا بیان ہوگا، تو یہ کُل گیارہ فصلیں ہیں جن میں اس موضوع سے متعلق مقاصد جمع ہوں گے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔
باب نمبر1: اخلاق سنوارنے کابیان
(یہ پانچ فصلوں پر مشتمل ہے)
پہلی فصل: حُسنِ اخلاق کی فضیلت اور بداخلاقی کی مذمت کا بیان
خُلقِ مُصطفٰے کی شان وعظمت:
اللہ عَزَّ وَجَلّ نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف کرتے اور آپ پر اپنی نعمت کو ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ۲۹،القلم:۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔
اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ طَیِّبَہ طاہِرہ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کا فرمان ہے کہ حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خُلق قرآنِ پاک ہے ۔ (1 )
حُسنِ اَخلاق کی فضیلت اور بداخلاقی کی مذمت پرمشتمل31فرامین مصطفٰے
(1)…ایک شخص نے حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اچھے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قرآن پاک کی یہ آیتِ مُقَدَّسَہ تِلاوت فرمائی:
خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) (پ۹،الاعراف:۱۹۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو ۔
پھرارشادفرمایا: ھُوَ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِیَ مَنْ حَرَمَکَ وَتَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَکَ یعنی حُسنِ اَخلاق یہ ہے کہ جو تم سے قَطْع
[1] المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندالسيدة عائشة رضی الله عنها ، ۹ / ۳۸۰ ، حديث : ۲۴۶۵۵
تعلُّق کرے تم اس سے صلہ رحمی کرواور جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پرظلم کرے تم اسے معاف کردو ۔ (1 )
(2)… اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ یعنی بے شک مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ (2 )
(3)… اَثْقَلُ مَایُوْضَعُ فِی الْمِیْزَانِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تَقْوَی اﷲِ وَحُسْنُ الْخُـلُقِ یعنی بروزِقیامت میزانِ عمل میں جو سب سے وزنی چیز رکھی جائے گی وہ تقوٰی اور حُسنِ اَخلاق ہے ۔ (3 )
دین کیاہے؟
(4)…ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں سامنے کی جانب سے حاضر ہوکر عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !دین کیا ہے؟ارشادفرمایا:’’حُسنِ اَخلاق ۔ ‘‘پھروہ داہنی طرف سے آیااورعرض کی:دین کیا ہے؟ ارشادفرمایا:’’حُسنِ اَخلاق ۔ ‘‘پھر وہ بائیں جانب سے آیا اورعرض کی:دین کیاہے؟فرمایا:’’حُسنِ اَخلاق ۔ ‘‘پھر وہ پُشت کی جانب سے آیااور عرض کی:دین کیاہے؟ پھرارشاد فرمایا:’’حُسنِ اَخلاق ۔ ‘‘پھراس کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا:’’ کیا تو اسے نہیں سمجھا اس کا مطلب یہ ہے کہ تو غصہ نہ کرے ۔ ‘‘
(5)…بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مَاالشُّؤْمُیعنی نحوست کیا ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فر مایا:’’سُوْءُ الْخُـلُقیعنی بداَخلاقی ۔ ‘‘(4 )
(6)…ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے نصیحت فرمائیے! توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’تم جہاں بھی ہو اللہ عَزَّ وَجَلّ سے ڈرتے رہو ۔ ‘‘اس نے عرض کی: مزید کچھ فرمائیے!ارشادفرمایا: ’’برائی کے بعد نیکی کرلو کہ وہ برائی کو مٹادے گی ۔ ‘‘عرض کی: کچھ اورفرمائیے!ارشادفرمایا:’’ لوگوں کے ساتھ اچھے اَخلاق سے پیش آؤ ۔ ‘‘(5 )
[1] شعب الايمان ، باب فی صلة الارحام ، ۶ / ۲۲۲ ، حديث : ۷۹۵۹ باختصار
[2] شرح السنة للبغوی ، کتاب الفضائل ، باب فضائل سيد الاولين والاٰخرين ، ۷ / ۹ ، حديث : ۳۵۱۶
[3] سنن الترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی حسن الخلق ، ۳ / ۴۰۴ ، حديث : ۲۰۰۹ ، ۲۰۱۱
[4] المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندالسيدة عائشة رضی الله عنها ، ۹ / ۳۶۹ ، حديث : ۲۴۶۰۱
[5] سنن الترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی معاشرة الناس ، ۳ / ۳۹۸ ، حديث : ۱۹۹۴ ملتقطًا
(7)…بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: اَیُّ الْاَعْمَالِ اَ فْضَلُ یعنی کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ خُلُقٌ حَسَنٌ یعنی حُسن اَخلاق ۔ ‘‘(1 )
Teks daripadaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472diambil pada 2026-10-21
Ini ialah teks Arab Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn karya al-Ghazālī sebagaimana ada dalam korpus OpenITI, daripada salinan Shamela bagi edisi Dār al-Maʿrifa. Tiada sesiapa membandingkannya dengan buku bercetak atau manuskrip, dan tiada ulama menelitinya. Korpus itu menyatakan bahawa di beberapa halaman sebahagian teks hilang dan nota kaki penyunting bercampur dengan teks; kedua-duanya dipaparkan seadanya. Halaman edisi bercetak ditandai di tempat ia berakhir. Terjemahan-terjemahan itu milik penterjemahnya; setiap satu dibaca daripada salinan yang dinamakan bersamanya dan dipaparkan sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuknya sendiri: tiada satu pun disusun baris demi baris di sisi teks Arab, terjemahan Inggeris Karim meringkaskan kitab sebagaimana kata penterjemahnya, dan setiap satu membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menterjemah apa-apa, tidak menyemak mana-mana terjemahan terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.