Langkau ke kandungan
Kitab 18 · Ihya' Ulumuddin
Kitab 18 · اردو

سماع86 اور وجد کے آداب کا بیان

Terjemahan ini milik penterjemahnya, bukan milik Sabīl. Ia dipaparkan sebagaimana sumbernya memberikannya, sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuk penterjemah sendiri: ia tidak berdiri baris demi baris di sisi teks Arab, dan membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menyemaknya terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.

Diterjemah oleh Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںDibaca daripada dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)diambil pada 2026-10-22

Apa yang sumber katakan tentangnya: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنےاوليا کے دلوں میں اپنی محبت کی آگ بھڑکادی، ان کی تمام تر کوششوں اوران کی روحوں کو اپنی معرفت وزیارت کے شوق میں مستغرق کردیا، ان کی بصارت و بصیرت جمال الٰہی کے دیدار کی اس قدر شدت سے منتظر ہیں کہ ان پر دیدار الٰہی کی خوشی سے بےخودی چھائی ہوئی ہے، ان کے دل جلالِ خداوندی کے انوار وتجلیات کے مشاہدے میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ انہیں عالَم غیب وشہادت ہرجگہ صرف رب تعالیٰ کی ذات کے جلوے دکھائی دیتے ہیں، وہ دنیا و آخرت میں صرف اسے ہی یاد کرتے ہیں، ان کی ظاہری نگاہوں کے سامنے کوئی صورت آتی ہے تو ان کی باطنی نگاہیں صورت کے بنانے والے کی طرف جاتی ہیں اور اگر کوئی خوبصورت آواز ان کے کانوں میں گونجتی ہے تو ان کے خیالات ذات باری تعالیٰ کی طرف جاتے ہیں، ان کی تمام کیفیات یعنی پریشانی، خوشی، اضطراب اور غم رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہوتی ہیں، وہ اس کی ابدی نعمتوں کے مشتاق ہیں، ان کا ہرہرفعل اسی کے لئے ہوتا ہے اوروہ اسی کے فضل و کرم کے منتظر رہتے ہیں، ان کی سماعت اور ان کا دھیان اسی کی طرف ہے اس کے علاوہ کسی کو دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی ولایت کے لئے چن لیا اور اپنے چنے ہوئے خاص بندوں میں بھی ممتاز کردیا، کامل درود اور خوب سلام ہو حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو رسول بناکر بھیجے گئے اور آپ کی آل و اصحاب پر جوائمہ حق اور حقیقی سردار ہیں۔

بےشک دل حق تعالیٰ کے راز اور جواہرات جمع ہونے کی جگہ ہے، دلوں میں جوہرات اسی طرح پوشیدہ ہوتے ہیں جس طرح لوہے اور پتھر میں آگ اور مٹی کے نیچے پانی پوشیدہ ہوتا ہے، ان پوشیدہ رازوں کو ظاہر کرنے کا (ایک)طریقہ سماع ہے اور دلوں تک پہنچنے کا دروازہ کان ہیں اور خوش نما اور دلوں کو بھانے والی آوازیں دلوں میں چھپی اچھائیاں اور برائیاں ظاہر کرتی ہیں، جب دل مضطرب ہوتا ہے تو وہی کیفیات ظاہر ہوتی ہیں جو اس میں چھپی ہوتی ہیں جس طرح برتن سے وہی کچھ باہر نکلتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔ پس سماع دل کے لئے کھری کسوٹی اور واضح معیار ہے کیونکہ جب یہ دلوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو وہی چیز متحرک ہوتی ہے جو دل پر غالب ہوتی ہے اور چونکہ دل طبعی طور پر کانوں کے تابع ہیں ان کے ذریعے جو کچھ دلوں تک پہنچتا ہے اسی کے مطابق وہ اپنی اچھائیاں اور برائیاں ظاہر کرتے ہیں،تو ضروری ہے کہ سماع اور وجدکے متعلق تفصیل ذکر کی جائے ان کے فوائدوآفات، ان کے آداب، ان کا طریقہ کار اور ان کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں علما کے اقوال بیان کئے جائیں۔ یہ تمام تفصیل ہم دو ابواب میں ذکر کریں گے۔

(۱)…سماع کے جواز کا بیان۔ (۲)…سماع کے آداب اور اس کے سبب پیدا ہونے والی دلی اور ظاہری کیفیات کا بیان مثلاً دل کا مضطرب ہونا، جھومنا، آواز بلند کرنا اور کپڑے پھاڑنا وغیرہ۔

قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۳۴۴

المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندالسيدة عائشة ، ۹ / ۴۷۸، الحديث : ۲۵۱۷۲، بتغيرقليل

السيرلابی اسحاق الفزاری ، باب ماجاء فی البيعة ، الحديث : ۱۲۴، ص۱۴۵

سنن ابن ماجه ، کتاب الفتن ، باب الصبرعلی البلاء ، ۴ / ۳۷۶ ، الحديث : ۴۰۳۴، باختصار

مصنف عبدالرزاق ، کتاب الزکاة ، باب احتلاب الماشية ، ۴ / ۵۱، الحديث : ۶۹۹۰

مصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاة ، باب القوم يجتمعون من يؤمهم ؟، ۲ / ۲۵۹، الحديث : ۳۸۲۳

سنن الترمذی ، کتاب السير ، باب ماجاء فی السرايا ، ۳ / ۱۹۸، الحديث : ۱۵۶۱

المعجم الاوسط ، ۲ / ۱۵۱، الحديث : ۲۸۴۲، بتغيرقليل

سنن الدارمی ، کتاب الاستئذان ، باب مايقول اذاودع رجلا ، ۲ / ۳۷۲، الحديث : ۲۶۷۱، عن انس ، بتغيرقليل

سنن الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب رقم۴۴، ۵ / ۲۷۸، الحديث : ۳۴۵۵ ، عن انس ، بتغيرقليل

سنن الدارمی ، کتاب الاستئذان ، باب مايقول اذاودع رجلا ، ۲ / ۳۷۲، الحديث : ۲۶۷۱

سنن الترمذی ، کتاب البيوع ، باب ماجاء فی التجارة ، ۳ / ۶، الحديث : ۱۲۱۶

الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، ۶ / ۱۲۱، الرقم : ۱۲۳۷ : عُمَربن مُساور ، بتغيرقليل

صحيح ابن خزيمة ، کتاب المناسک ، باب صفة النوم فی العرس ، ۴ / ۱۴۸، الحديث : ۲۵۵۸، بتغيرقليل

المسندللامام احمدبن حنبل ، حديث سهل بن معاذ ، ۵ / ۳۱۵، الحديث : ۱۵۶۵۰

السنن الکبری للبيهقی ، کتاب الحج ، باب النزول للرواح ، ۵ / ۴۱۸، الحديث : ۱۰۳۳۸

المعجم الاوسط ، ۲ / ۲۰، الحديث : ۲۳۵۲، مِقْراض : بدله : مِقَصّ

تاريخ بغداد ، ۸ / ۶۲، الرقم : ۴۱۳۸ : الحسين بن علوان بن قدامة ، بتغيرقليل

تاريخ بغداد ، ۸ / ۶۲، الرقم : ۴۱۳۸ : الحسين بن علوان بن قدامة ، بتغيرقليل

باب نمبر1: سماع کے بارے میں فقہائے کرام کے اقوال اور قول راجح

(یہ تین فصلوں پر مشتمل ہے)

جان لو کہ پہلے پہل سماع کا وقوع ہوتا ہے جس سے دل پر ایک حالت طاری ہوتی ہے جسےوجد کہتے ہیں، پھر وجد کے نتیجے میں اعضاء حرکت کرتے ہیں، اگر وہ حرکت موزں نہ ہو تو اسے اضطراب کہتے ہیں اور اگر موزون ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک کو تَصْفِیْق(یعنی تالی بجانا)اور دوسری کو رَقْص کہتے ہیں۔ ہم اوّلاً سماع کا حکم بیان کریں گے اور یہی ۱ہم چیز ہے پھراس بارے میں وہ اقوال ذکر کریں گےجن سے اختلاف ظاہر ہوتا ہے، پھر اس کے جواز پر دلائل پیش کریں گے اور اس کے بعد ان دلائل کا جواب دیں گے جن سے اس کی حرمت کے قائلین دلیل پکڑتے ہیں۔

پہلی فصل: سماع کے متعلق فقہا کی آراء

جہاں تک فقہائے کرام کے اقوال نقل کرنے کا تعلق ہے توحضرت سیِّدُناقاضی ابوالطیب طَبَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی،حضرت سیِّدُنا امام مالک،حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ،حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری اور دیگر عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت سے ایسی عبارتیں نقل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک سماع حرام ہے۔

غنا و سماع کا خوگر بےوقوف ہے:

حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے( کتابُ الاُم میں)فیصلہ کرنے کے آداب کے بیان میں فرمایا: غنا وسماع ایک فضول ناپسندیدہ فعل ہے جو باطل کے مشابہ ہے اور غناوسماع کا خوگر(عادی)بےوقوف اور اس کی گواہی مردود ہے۔

سیِّدُناامام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی رائے:

حضرت سیِّدُناقاضی ابوالطیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:” شوافع کے نزدیک نامحرم عورت سےکسی حالت میں بھی غنا سننا جائز نہیں خواہ عورت سامنے ہو یا پردے میں ، آزاد ہو یاباندی۔“

مزید فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے فرمایا:”لونڈی کا مالک اگر لوگوں کو لونڈی کاغنا سنانے کے لئے جمع کرے تووہ بےقوف ہے اور اس کی گواہی مردود ہے۔“

مزیدفرماتے ہیں:”منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی لکڑی سے آواز پیدا کرنے کو بھی مکروہ جانتے تھے اور فرماتے یہ زَنادِقہ (یعنی بے دینوں)کی ایجاد ہے تاکہ لوگ اس میں مشغول ہوکر قرآن پاک سے غافل ہوجائیں۔“

کھیل کوددین داروں اور اہل مُروَّت کا شیوہ نہیں:

حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں: میں دوسرے کھیلوں کی بنسبت چَوسَر(1 )کوزیادہ ناپسند کرتا ہوں کیونکہ حدیث پاک میں اس کی مذمت بیان کی گئی ہے اور شطرنج(2 )کھیلنا بھی پسند نہیں کرتا، نیزمیں ہر اس کھیل کو ناپسند کرتا ہوں جسے لوگ کھیلتے ہیں کیو نکہ کھیلنا دین داروں اور اہل مروت کاشیوہ نہیں۔

سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی رائے:

حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق نے بھی غناکی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا:”اگر کوئی شخص لونڈی خریدے،پھر معلوم ہو کہ وہ غناکی خوگر(عادی) ہے تو اسے چاہئے کہ واپس کردے۔“

حضرت سیِّدُنا ابرہیم بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد کے علاوہ تمام اہل مدینہ کا یہی موقف ہے۔

سیِّدُنا امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی رائے:

حضرت سیِّدُنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم گانے کو مکروہ جانتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ غنا سننا گناہ ہے۔

40 daripada 794
Teks Arab
كتاب آداب السماع والوجد وهو الكتاب الثامن من ربع العادات من كتب إحياء علوم الدين

Teks daripadaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472diambil pada 2026-10-21

Ini ialah teks Arab Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn karya al-Ghazālī sebagaimana ada dalam korpus OpenITI, daripada salinan Shamela bagi edisi Dār al-Maʿrifa. Tiada sesiapa membandingkannya dengan buku bercetak atau manuskrip, dan tiada ulama menelitinya. Korpus itu menyatakan bahawa di beberapa halaman sebahagian teks hilang dan nota kaki penyunting bercampur dengan teks; kedua-duanya dipaparkan seadanya. Halaman edisi bercetak ditandai di tempat ia berakhir. Terjemahan-terjemahan itu milik penterjemahnya; setiap satu dibaca daripada salinan yang dinamakan bersamanya dan dipaparkan sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuknya sendiri: tiada satu pun disusun baris demi baris di sisi teks Arab, terjemahan Inggeris Karim meringkaskan kitab sebagaimana kata penterjemahnya, dan setiap satu membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menterjemah apa-apa, tidak menyemak mana-mana terjemahan terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.