اُلفت وبھائی چارے اور صحبت و مُعاشَرَت کے آداب کا بیان
Terjemahan ini milik penterjemahnya, bukan milik Sabīl. Ia dipaparkan sebagaimana sumbernya memberikannya, sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuk penterjemah sendiri: ia tidak berdiri baris demi baris di sisi teks Arab, dan membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menyemaknya terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.
Diterjemah oleh Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںDibaca daripada dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)diambil pada 2026-10-22
Apa yang sumber katakan tentangnya: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئےہیں جس نے اپنے چنے ہوئے بندوں پر فضل فرماتے ہوئے انہیں لطف و کرم سے ڈھانپ لیا اور ان کے دلوں میں محبت ڈالی تو وہ اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، ان کے سینوں سے کینہ نکالاتو وہ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست اور راز دار بن گئے اور آخرت میں ایک دوسرے کے رفیق و خلیل ہوں گے۔ درود ہو حضرت سیِّدُنا محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کے آل واصحاب پر جنہوں نے قول و فعل اور عدل و احسان میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کی۔
رضائے الہٰی کی خاطر کسی سے محبت کرنا اور دین کی خاطر بھائی چارہ قائم کرنا افضل ترین نیکی اور اچھی عادت ہے۔البتہ! اس کی کچھ شرائط ہیں جن کی رعایت کرنے سے آپس میں دوستی رکھنے والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر محبت کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔نیزان شرائط کی رعایت کرنے سے بھائی چارہ کدورتوں کی آمیزش اور شیطانی وسوسوں سے پاک وصاف رہتا ہے جبکہ اس کے سبب انسان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل ہوتاہے اور ان پر محافظت کرنے سے اسے بلند اور اعلیٰ درجات حاصل ہوتے ہیں۔ہم اس کے مقاصد تین ابواب میں بیان کریں گے:
(۱)…رضائے الہٰی کی خاطر الفت و بھائی چارہ قائم کرنے کی فضیلت، اس کی شرائط ودرجات اور فوائد کا بیان۔(۲)…صحبت (یعنی دوستی) کے حقوق، اس کے آداب، حقیقت اور لوازمات کا بیان۔(۳)…عام مسلمانوں، رشتے داروں، پڑوسیوں اورمملوکہ شے (مثلاً غلاموں) کے حقوق اور ان کے ساتھ میل جول کی کیفیت کا بیان۔
) صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سنن الترمذی ، کتاب البيوع ، باب ما جاء فی اکل الربا ، ۳ / ۳، الحديث : ۱۲۱۰
معرفة الصحابة لابی نعيم الاصبهانی ، علی بن ابی طالب بن عبد المطلب ، ۳ / ۳۷۵، الحديث : ۴۹۶۵، بتغيرقليل
(
باب نمبر1: اُلفت و بھائی چارہ کی فضیلت، اس کی شرائط،درجات اور فوائد کا بیان
(یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے)
پہلی فصل: اُلفت و بھائی چارے کی فضیلت
جان لیجئے کہ اُلفت حُسن اَخلاق کا نتیجہ ہے اور اختلاف بداخلاقی کا نتیجہ ہے، اچھے اخلاق کے سبب باہم محبت واُلفت اور موافقت پیدا ہوتی ہے جبکہ بد اخلاقی آپس میں بغض وحسد اور جدائی پیدا کرتی ہے کیونکہ پھل اسی وقت اچھا نکلتا ہے جب درخت اچھاہو۔
حُسن اَخلاق کی فضیلت دین میں پوشیدہ نہیں، اسی کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح فرمائی ہے۔ چنانچہ، ارشادِباری تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) ( پ ۲۹، القلم :۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور بےشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔
حسن اخلاق کی فضیلت پر مشتمل 6 فرامین مصطفٰے:
(1)… اَکْثَرُ مَا یُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُق یعنی جو چیز سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی وہ خوف خدا اور حُسن اَخلاق ہے۔(1 )
(2)…حضرت سیِّدُنا اسامہ بن شریک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! انسان کو سب سے بہتر چیز کون سی عطا کی گئی ہے؟“توارشاد فرمایا:’’حُسن اَخلاق۔‘‘(2 )
(3)… بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَحَاسِنَ الْاَخْلَاق یعنی مجھے حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔(3 )
(4)… اَثْقَلُ مَا یُوْضَعُ فِی الْمِیْزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ یعنی میزانِ عمل میں رکھی جانے والی سب سے وزنی شے اچھے اخلاق ہیں۔(4 )
(5)… اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جسے اچھی صورت وسیرت عطا فرمائی ہے اسے جہنم کی آگ نہ جلا سکے گی۔(5 )
(6)…ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشادفرمایا:”اے ابوہریرہ! اچھے اخلاق کو لازم پکڑلو۔“ انہوں نے عرض کی:” یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اچھے اخلاق کیا ہیں؟“ ارشاد فرمایا:” تَصِلُ مَنْ قَطَعَکَ وَتَعْفُوْ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَتُعْطِیْ مَنْ حَرَمَک یعنی جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق کو جوڑو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کردو اور جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو۔“(6 )
ظاہر ہوگیا کہ اچھے اخلاق کے نتیجے میں الفت پیدا ہوتی اور وحشت ختم ہوتی ہے کیونکہ اگردرخت اچھا ہو تو پھل بھی اچھا ہی ہوتا ہے جیساکہ (حسن اخلاق کے متعلق)احادیث مبارکہ مذکور ہوئیں اور جب اس کا سبب تقویٰ، دین اور رضائے الٰہی ہو پھر توسونے پہ سہاگا ہے۔ اس بارے میں بےشمار آیات، احادیث اور اقوال بزرگان دین مروی ہیں(چندملاحظہ فرمائیے!)۔ چنانچہ،
رضائے الہی کے لئے الفت وبھائی چارہ قائم کرنے کی فضیلت پر مشتمل آیات وروایات
(1)… اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی اس عظیم نعمت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ
ترجمۂ کنز الایمان : اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ
بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ- ( پ ۱۰، الانفال :۶۳)
کردیتے ان کے دل نہ ملاسکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملا دیئے۔
(2)…ایک آیت مبارکہ میں اس نعمت کا اظہار کرتے ہوئے تفرقہ بازی کی مذمت اور اس پر زجر اس انداز سے فرمایا ہے:
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءًفَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْ
بِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۰۳) ( پ ۴، اٰل عمرٰن :۱۰۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا(فرقوں میں بٹ نہ جانا) اور اللہ کااحسان اپنے اوپریاد کرو جب تم میں بیر تھا(دشمنی تھی) اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے اور تم ایک غاردوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا دیا اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ۔
اس آیت مبارکہ میں ” اِخْوَانًاۚ یعنی بھائی ہونے“سے مراد الفت ومحبت قائم ہونا ہے۔
قرب مصطفٰے پانے والے:
(3)…ایک مرتبہ ایک مجلس میں حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”تم میں سے میرے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں، جن کے پہلو دوسروں کے لئے نرم ہیں، جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور ان سے محبت کی جاتی ہے۔“(7 )
(4)… اَلْمُوْمِنُ اٰلِفٌ مَّالُوْفٌ وَّلَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَّا یَاْلَفُ وَلَا یُوْلَف یعنی مومن محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو شخص نہ خود محبت کرے نہ اس سے محبت کی جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں۔(8 )
(5)…دین کی خاطر بھائی چارہ قائم کرنے والے کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَنْ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٖ خَیْراًرَّزَقَہٗ خَلِیْلًا صَالِحًا اِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہٗ وَاِنْ ذَکَرَ اَعَانَہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے نیک دوست عطا فرماتا ہے کہ اگر یہ بھولے تو وہ اسے یاد دلائے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرے۔(9 )
(6)…جب دو بھائی آپس میں ملتے ہیں تو ان کی مثال دو ہاتھوں کی سی ہوتی ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو دھوتا ہے اور جب دو مومن آپس میں ملتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور ایک کو دوسرے کی طرف سے بھلائی عطا فرماتا ہے۔(10 )
(7)…جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کسی کو اپنا بھائی بنائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت میں بلند درجہ عطا فرمائے گا جس تک وہ اپنے کسی عمل کی بدولت نہیں پہنچ سکتا۔(11 )
چودھویں کے چاند کی مانند روشن چہرے والے:
Teks daripadaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472diambil pada 2026-10-21
Ini ialah teks Arab Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn karya al-Ghazālī sebagaimana ada dalam korpus OpenITI, daripada salinan Shamela bagi edisi Dār al-Maʿrifa. Tiada sesiapa membandingkannya dengan buku bercetak atau manuskrip, dan tiada ulama menelitinya. Korpus itu menyatakan bahawa di beberapa halaman sebahagian teks hilang dan nota kaki penyunting bercampur dengan teks; kedua-duanya dipaparkan seadanya. Halaman edisi bercetak ditandai di tempat ia berakhir. Terjemahan-terjemahan itu milik penterjemahnya; setiap satu dibaca daripada salinan yang dinamakan bersamanya dan dipaparkan sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuknya sendiri: tiada satu pun disusun baris demi baris di sisi teks Arab, terjemahan Inggeris Karim meringkaskan kitab sebagaimana kata penterjemahnya, dan setiap satu membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menterjemah apa-apa, tidak menyemak mana-mana terjemahan terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.