Langkau ke kandungan
Kitab 10 · Ihya' Ulumuddin
Kitab 10 · اردو

اوراد کی ترتیب اور شب بیداری کی تفصیل کا بیان

Terjemahan ini milik penterjemahnya, bukan milik Sabīl. Ia dipaparkan sebagaimana sumbernya memberikannya, sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuk penterjemah sendiri: ia tidak berdiri baris demi baris di sisi teks Arab, dan membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menyemaknya terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.

Diterjemah oleh Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںDibaca daripada dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)diambil pada 2026-10-22

Apa yang sumber katakan tentangnya: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

ہم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں پر اس کی کثیر حمد کرتے ہیں ، ایسا ذکر کرتے ہیں جو دل میں تکبر وغرور کو نہیں رہنے دیتا ، اس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے دن ذکر وشکر کا ارادہ کرنے والے کے لئے رات کو ایک دوسرے کے بعد آنے جانے والا بنایا اور درود بھیجتے ہیں اُس کے پیارے نبی حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جنہیں بشیر و نذیر بنا کر حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور درود بھیجتے ہیں ان کی آل و اصحاب پر کہ جنہوں نے عبادت میں صبح و شام کوششیں کیں حتی کہ ان میں سے ہر ایک دین میں ہدایت دینے والا ستارہ اور روشن چراغ بن گیا ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین کو اپنے بندوں کے تابع اس لئے نہیں کیا کہ وہ بلند وبالا مکانوں (کو دائمی ٹھکانا سمجھ کراس) میں سکونت پذیر ہو جائیں بلکہ اس لئے تابع بنایا کہ وہ اسے (مسافر کی طرح) قیام گاہ جانیں اور محض اتنا زادراہ لیں جو وطنِ اصلی (یعنی آخرت) کے سفر میں ان کے کام آئے ، اس کے جالوں وہلاکتوں سے بچتے ہوئے اپنے لئے عمل وفضل کے تحفے ذخیرہ کریں اور یقین کر لیں کہ عمر انہیں ایسے لئے جاتی ہے جیسے کشتی اپنے سواروں کو ۔ لوگ دُنیا میں مسافر ہیں ، ان کی پہلی منزل جھولا اور آخری قبر ہے ، ان کا وطن جنت یا جہنم ، عمر سفر کی مسافت ، سال سفر کے مراحل ، مہینے سفر کے فرسنگ(62 ) ، دن سفر کے میل ، سانس سفر کے قدم ، اطاعت سفر کے لئے زادِ راہ ، اوقات سفر کا اصل سرمایہ اور شہوات و اغراض راستے کے ڈاکو ہیں ۔ اس کا نفع جنت میں بڑی سلطنت اور نعمت کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں کامیاب ہونا اور اس کا نقصان جہنّم کے طبقات میں بیڑیوں ، طوقوں اور درد ناک عذاب کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ سے دوری ہے ۔ تو جو ایک سانس کے معاملے میں بھی غفلت کرتا اور اُسے قرب الٰہی کا سبب بننے والی اطاعت کے بغیر گزارتاہے تو قیامت کے دن اُسے بے انتہا نقصان وحسرت کا سامنا ہوگا ۔ اسی بڑے خطرے اورہولناک امر کی وجہ سے توفیق یافتہ لوگ محنت و کوشش کے لئے تیار ہو گئے اور لذاتِ نفسانی کو یکسر چھوڑ دیا ، اپنی بقیہ عمر کو غنیمت جان کر دن رات ذکرِ الٰہی میں بسر کرنے کے شوق ، قرب الٰہی کے حصول اور دار القرار (یعنی آخرت) کی طرف کوشش کرتے ہوئے مختلف اوقات کے اعتبار سے جدا جدا اور اد و وظائف مرتب کئے ۔ لہٰذا طریقِ آخرت کے علم میں یہ ضروری ہے کہ تقسیم اوراد کی تفصیل بیان کی جائے ، نیز عبادات کہ جن کی تشریح پیچھے گزر چکی انہیں مختلف اوقات کے مطابق تقسیم کر دیا جائے ۔ یہ دو ابواب سے واضح ہو گا ۔

پہلا باب: اَوراد کی فضیلت اور رات دن میں ان کی ترتیب کے بیان پر مشتمل ہے ۔

دوسرا باب: شب بیداری کا طریقہ ، اس کی فضیلت اور اس سے تعلق رکھنے والی باتوں کے بیان پر مشتمل ہے ۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

{…نیکیوں کاذخیرہ …}

میٹھے میٹھے اسلامی بھائی و!

اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی کے حصول اور باکردار مسلمان بننے کے لئے ’’دعوتِ ا سلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے’’ مدنی انعامات ‘‘نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے اور اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میں پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے ۔ دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لیے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر ، گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں ، آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے ’’نیکیوں کا ذخیرہ‘‘ اکٹھا کریں ۔ اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر’’ مدنی انقلاب‘‘ برپا ہوتا دیکھیں گے

1 صحیح البخاری ، کتاب الدعوات ، باب الدعاء اذانتبہ باللیل ، الحدیث:۶۳۱۶ ، ج۴ ، ص۱۹۳ ، مفہومًا ۔

2 سنن ابن ماجہ ، کتاب المساجد والجماعات ، باب المشی الی الصلاۃ ، الحدیث:۷۷۸ ، ج۱ ، ص۴۲۹ ، ’’تنقذنی‘‘ بدلہ ’’تعیذنی‘‘ ۔

3 سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب مایقول اذاخرج من بیتہ ، الحدیث:۵۰۹۴ ، ج۴ ، ص۴۲۰ ۔

سنن ابن ماجہ ، کتاب الدعاء ، باب مایدعوبہ الرجل اذاخرج من بیتہ ، الحدیث:۳۸۸۵ ، ج۴ ، ص۲۹۲ ، مختصرًا ۔

4 سنن الترمذی ، ابواب الصلاۃ ، باب ماجاء مایقول عنددخول المسجد ، الحدیث:۳۱۴ ، ج۱ ، ص۳۳۹ ، مختصرًا ۔

5 سنن الترمذی ، کتاب البیوع ، باب النھی عن البیع فی المسجد ، الحدیث:۱۳۲۵ ، ج۳ ، ص۵۹ ۔

6 صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ، باب النھی عن نشد الخ ، الحدیث:۵۶۸ ، ص۲۸۴ ۔

7 صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا الخ ، باب الدعاء فی صلاۃ الخ ، الحدیث:۷۷۱ ، ص۳۹۰ ، باختصارٍ ۔

8 سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب مقدار الرکوع والسجود ، الحدیث:۸۸۶ ، ج۱ ، ص۳۳۶ ۔

9 صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ ، باب مایقال فی الرکوع والسجود ، الحدیث:۴۸۷ ، ص۲۵۲ ۔

10 صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ ، باب مایقول اذارفع راسہ من الرکوع ، الحدیث:۴۷۶ ۔ ۴۷۷ ، ص۲۴۷ ۔ ۲۴۸ ۔

11 صحیح مسلم ، کتاب الصلاۃ ، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ ، الحدیث:۷۷۱ ، ص۳۹۰ ۔ ۳۹۱ ، مختصرًا ۔

المستدرک ، کتاب الدعاء والتکبیر الخ ، الدعاء الجامع الخ ، الحدیث:۲۰۰۰ ، ج۲ ، ص۲۲۴ ، مختصرًا ۔

12 سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب مقدارالرکوع والسجود ، الحدیث:۸۸۶ ، ج۱ ، ص۳۳۶ ۔

13 صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ الخ ، الحدیث:۵۹۱ ، ص۲۹۷ ۔

14 المستدرک ، کتاب الدعاء والتکبیر الخ ، باب دعاء کفارۃ المجالس ، الحدیث:۲۰۱۵ ، ج۲ ، ص۲۲۹ ۔

15 سنن الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب مایقول اذادخل السوق ، الحدیث:۳۴۳۹ ، ج۵ ، ص۲۷۱ ۔

16 المستدرک ، کتاب الدعاء والتکبیر الخ ، باب دعاء دخول السوق ، الحدیث:۲۰۲۱ ، ج۲ ، ص۲۳۲ ۔

17 سنن الترمذی ، احادیث شتی ، الحدیث:۳۵۷۴ ، ج۵ ، ص۳۲۹ ۔

18 سنن ابی داود ، کتاب اللباس ، باب مایقول اذالبس ثوباجد یدا ، الحدیث:۴۰۲۰ ، ج۴ ، ص۵۹ ۔

19 ایک حدیث پاک جس میں شگون کا ذکر کیا گیا اس کے تحت مُفَسِّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّتحضرتِ مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجیْح ، ج6 ، ص 266پر فرماتے ہیں : فال سے مراد نیک فال ہے جو اچھی بات ہے اچھا نام سننے سے لی جائے ۔ یعنی یہ جائز ہے لیکن کوئی شخص کسی کام کو جاتے وقت ناپسندیدہ چیز دیکھے یا سنے جس سے بدشگونی لی جائے تو وہ محض اس وجہ سے اپنے کام سے واپس نہ ہو ۔ اللّٰہ پرتوکل کرے اور کام کو جائے ۔ اس کے بارے میں مزید صفحہ255 پر فرماتے ہیں : ’’نیک فال لینا سنت ہے اس میں اللّٰہ تعالیٰ سے امید ہے اور بدفالی لینا ممنوع کہ اس میں رب سے ناامیدی ہے ۔ امید اچھی ہے ناامیدی بری ۔ ہمیشہ رب سے امید رکھو ۔ ‘‘

20 شعب الایمان للبیہقی ، باب التوکل والتسلیم ، الحدیث:۱۱۶۷ ، ج۲ ، ص۶۲ ۔

21 سنن الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب مایقول عندرؤیۃ الھلال ، الحدیث:۳۴۶۲ ، ج۵ ، ص۲۸۱ ، مختصرًا ۔

المعجم الکبیر ، الحدیث:۱۳۳۳۰ ، ج۱۲ ، ص۲۷۳ ، مختصرًا ۔

22 سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب مایقول الرجل اذارای الھلال ، الحدیث:۵۰۹۲ ، ج۴ ، ص۴۲۰ ، بتغیرٍ ۔

23 المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند الانصار ، الحدیث:۲۲۸۵۵ ، ج۸ ، ص۴۲۴ ، بتغیرٍ ۔

24 سنن الترمذی ، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی النھی عن سب الریاح ، الحدیث:۲۲۵۹ ، ج۴ ، ص۱۱۱ ، بتغیرٍ ۔

25 کنزالعمال ، کتاب الموت ، الحدیث:۴۲۲۱۰ ، ج۱۵ ، ص۲۴۳ ۔

26 الموطا للامام مالک ، کتاب الکلام ، باب القول اذاسمعت الرعد ، الحدیث:۱۹۲۰ ، ج۲ ، ص۴۷۰ ۔

27 سنن الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب مایقول اذاسمع الرعد ، الحدیث:۳۴۶۱ ، ج۵ ، ص۲۸۱ ۔

28 صحیح البخاری ، کتاب الاستسقاء ، باب مایقال اذاامطرت ، الحدیث:۱۰۳۲ ، ج۱ ، ص۳۵۳ ، مختصرًا ۔

مشکاۃ المصابیح ، کتاب الصلاۃ ، باب فی الریاح ، الحدیث:۱۵۲۰ ، ج۱ ، ص۲۹۲ ، مختصرًا ۔

40 daripada 900
Teks Arab
كتاب ترتيب الأوراد وتفصيل إحياء الليل وهو الكتاب العاشر من إحياء علوم الدين وبه اختتام ربع العبادات نفع الله به المسلمين

Teks daripadaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472diambil pada 2026-10-21

Ini ialah teks Arab Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn karya al-Ghazālī sebagaimana ada dalam korpus OpenITI, daripada salinan Shamela bagi edisi Dār al-Maʿrifa. Tiada sesiapa membandingkannya dengan buku bercetak atau manuskrip, dan tiada ulama menelitinya. Korpus itu menyatakan bahawa di beberapa halaman sebahagian teks hilang dan nota kaki penyunting bercampur dengan teks; kedua-duanya dipaparkan seadanya. Halaman edisi bercetak ditandai di tempat ia berakhir. Terjemahan-terjemahan itu milik penterjemahnya; setiap satu dibaca daripada salinan yang dinamakan bersamanya dan dipaparkan sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan tajuk-tajuknya sendiri: tiada satu pun disusun baris demi baris di sisi teks Arab, terjemahan Inggeris Karim meringkaskan kitab sebagaimana kata penterjemahnya, dan setiap satu membawa kecacatan salinan yang dibacanya. Sabīl tidak menterjemah apa-apa, tidak menyemak mana-mana terjemahan terhadap teks Arab, dan tiada ulama menelitinya.