Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
Surah 9

At-Tawba

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ 1 فَسِيحُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخْزِى ٱلْكَـٰفِرِينَ 2

(یہ) دست برداری ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے، ان لوگوں سے کہ عہد کر رکھا تھا تم نے (ان) مشرکین سے(1) پس چلو پھرو تم زمین میں چار مہینے اورجان لوکہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کو اور یہ کہ بلاشبہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو(2)

[2,1] یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں ۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں ۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔