Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anfaal
Surah 8

Al-Anfaal

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 22–23

إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ 22 وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ 23

بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)

[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔

[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔