Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-An'aam
Surah 6

Al-An'aam

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 50

قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ 50

کہہ دیجیے!نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے، اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہیں کہتا میں تم سے کہ یقیناً میں فرشتہ ہوں ، نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف ۔ کہہ دیجیے! کیا برابر ہوسکتا ہے نا بینا او بینا؟کیا پس نہیں غو رکرتے تم؟(50)

[50] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺسے فرماتا ہے کہ وہ معجزات کا مطالبہ کرنے والوں سے کہہ دیں یا جو آپ سے یہ کہتے ہیں کہ ’’تو صرف اس لیے ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم تجھے بھی اللہ کے ساتھ الہ مان لیں ‘‘ ﴿ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے رزق اور رحمت کی کنجیاں ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور نہ میں غیب جانتا ہوں ‘‘ غیب کا علم تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس کی صفت ہے: ﴿ مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾(فاطر: 35؍2) ’’اللہ تعالیٰ لوگوں پر رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو دروازہ وہ بند کر دے تو اس کے بعد کوئی کھول نہیں سکتا۔‘‘ یعنی وہ اکیلا ہی ہے جو غائب اور موجود کا علم رکھتا ہے ﴿ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلٰى غَيۡبِهٖۤ اَحَدًا ۰۰ اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰى مِنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾(الجن: 72؍26۔27) ’’وہ کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرے۔‘‘ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ اِنِّيۡ مَلَكٌ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ کہ میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو نافذ کرنے والا ہوں ، میں اپنے اس مرتبہ و مقام سے بڑھ کر کوئی دعویٰ نہیں کرتا جس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے۔ ﴿ اِنۡ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے آتا ہے۔‘‘ یعنی یہ میرے معاملے کی غایت و انتہا ہے، میں وحی کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا، میں خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں اور تمام مخلوق کو بھی اسی پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہوں ۔ جب میں نے اپنا مرتبہ اور مقام پہچان لیا ہے تو تلاش کرنے والا میرے پاس کیا چیز تلاش کرتا ہے یا مجھ سے ایسی کس چیز کا مطالبہ کرتا ہے جس کا میں نے کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا۔ کیا انسان پر اس کے سوا کوئی چیز لازم ہے جس کے وہ درپے ہے؟ جب میں تمھیں اس چیز کی طرف بلاتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ تو تم کس بنا پر مجھ پر یہ لازم کرتے ہو کہ میں کسی ایسی چیز کا دعویٰ کروں جو میرے مرتبہ کے شایاں نہیں ، کیا یہ محض تمھارا ظلم، عناد اور سرکشی نہیں ؟ جو آپ کی دعوت قبول کرتے ہیں اور آپ کی طرف بھیجی گئی وحی کی اتباع کرتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے، ان کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں ، کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے کہ تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مرتبے اور مقام پر رکھو اور اسی چیز کو اختیار کرو جو اختیار کیے جانے اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔