Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Maaida
Surah 5

Al-Maaida

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 70–71

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُهُمْ فَرِيقًا كَذَّبُوا۟ وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ 70 وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ 71

البتہ تحقیق لیا تھا ہم نے عہد بنی اسرائیل سے اور بھیجے ہم نے ان کی طرف کئی رسول، جب آیا ان کے پاس رسول، ساتھ ایسی چیز کے کہ نہیں چاہتے تھے ان کے نفس تو کچھ کو انھوں نے جھٹلایا اور کچھ کو وہ قتل ہی کر ڈالتے(70) اور گمان کیا انھوں نے کہ نہ ہوگی کوئی آزمائش ، پس وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر متوجہ ہوا اللہ اوپر ان کے، پھر اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے زیادہ لوگ ان میں سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (71)

[70]﴿ لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۚ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا…الآيۃ﴾(المائدۃ: 5؍12) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ ﴿ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا﴾ ’’اور ان کی طرف رسول بھیجے‘‘ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا ﴿ كُلَّمَا جَآءَؔهُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے‘‘ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا ﴿ فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔‘‘

[71]﴿ وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔‘‘ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ﴾ ’’پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہو گئے‘‘ ﴿ ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی‘‘ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کر دیا جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر انھوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔‘‘ یعنی انھی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہو گئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں ، اس کو دیکھتا ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزاہو گی۔