Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ghaafir
Surah 40

Al-Ghaafir

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 53–55

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْهُدَىٰ وَأَوْرَثْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْكِتَـٰبَ 53 هُدًى وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ 54 فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَٱسْتَغْفِرْ لِذَنۢبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِبْكَـٰرِ 55

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو ہدایت اوروارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا (53) برائے ہدایت اور نصیحت ارباب عقل کے لیے (54) پس صبر کیجیے! بلاشبہ وعدہ اللہ کا سچا ہے اور معافی مانگیے اپنے گناہ کی اور پاکیزگی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو اور صبح کو (55)

[53، 54] موسیٰu اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰu کو ﴿الۡهُدٰؔى ﴾ ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نوازا جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَاَوۡرَثۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا‘‘ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف ﴿لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔

[55]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’(اے رسول!) صبر کیجیے‘‘ جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک وشبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ ہے جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لیے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسّک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ﴿وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ ﴾ ’’اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔‘‘ یعنی جو آپ کے لیے فوزوفلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکروہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا۔ خاص طور پر ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ ﴾ ’’صبح و شام کو‘‘ جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اذکارو وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد ملتی ہے۔