Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Saad
Surah 38

Saad

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو ٱلْأَوْتَادِ 12 وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَـٰبُ لْـَٔيْكَةِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَحْزَابُ 13 إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14 وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ 15

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15)

[15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔