As-Sajda
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ 26 أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَسُوقُ ٱلْمَآءَ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَـٰمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ 27
کیا نہیں واضح ہوا ان کے لیے کہ کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں، چلتے (پھرتے) ہیں وہ ان کے گھروں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں، کیا پس وہ نہیں سنتے؟(26)کیا نہیں دیکھا انھوں نے، بے شک ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی طرف چٹیل زمین کی، پس نکالتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے کھیتی، کھاتے ہیں اس سے چوپائے ان کے اور وہ خود بھی، کیا پس وہ نہیں دیکھتے؟(27)
[26] کیا رسول (ﷺ)کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انھیں راہ صواب نہیں ملی کہ ﴿كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا۔‘‘ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ ﴿يَمۡشُوۡنَ فِيۡ مَسٰكِنِهِمۡ ﴾ ’’ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں‘‘ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً: قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں‘‘ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کر سکتے ہیں نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ نیز وہ اس پر بھی استدلال کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور حشر کے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿اَفَلَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ کیا وہ آیات الٰہی کو سن کر یاد نہیں رکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ان کی سماعت صحیح ہوتی اور وہ عقل راجح سے بہرہ مند ہوتے تو اس حالت پر کبھی بھی قائم نہ رہتے جس میں ہلاکت یقینی ہے۔
[27]﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا ﴾ کیا انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہماری نعمت اور ہماری حکمت کاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا؟ ﴿اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَى الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ﴾ ’’ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس زمین کی طرف جو بے آب و گیاہ ہے اللہ تعالیٰ بارش کو لاتا ہے جو اس سے قبل موجود نہ تھی وہ اس زمین پر بادل برساتا ہے یا دریاؤ ں سے سیراب کرتا ہے۔ ﴿فَنُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا ﴾ پس ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف انواع کی نباتات اگاتے ہیں ﴿تَاۡكُلُ مِنۡهُ اَنۡعَامُهُمۡ ﴾ ’’جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد مویشیوں کا چارہ ہے ﴿وَاَنۡفُسُهُمۡ ﴾’’اور وہ خود بھی‘‘ اس سے مراد آدمیوں کا کھانا ہے۔﴿اَفَلَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھتے نہیں جس کے ذریعے سے اس نے زمین اور بندوں کو زندگی بخشی؟ اگر وہ دیکھتے تو انھیں صاف نظر آتا اور اس بصارت اور بصیرت کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے، مگر ان پر اندھا پن غالب اور غفلت چھائی ہوئی ہے، لہٰذا انھوں نے اس بارے میں مردوں کی طرح نہیں دیکھا۔ بس انھوں نے اس کو غفلت کی نظر سے اور محض عادت کے طور پر دیکھا، اس لیے انھیں بھلائی کی توفیق نہیں ملی۔