Ar-Room
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ 46
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ وہ بھیجتا ہے ہوائیں خوشخبری دینے والی، اور تاکہ وہ چکھائے تمھیں کچھ رحمت اپنی اور تاکہ چلیں کشتیاں اس کے حکم سے اور تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو (46)
[46] یہ ان دلائل کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے گا ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی الٰہ معبود اور بادشاہ محمود ہے۔ ان دلائل میں سے ایک ﴿اَنۡ يُّرۡسِلَ الرِّيَاحَ ﴾ بارش سے پہلے اس کا ہواؤں کو بھیجنا ہے۔ ﴿مُبَشِّرٰتٍ ﴾ جو بادلوں کو اٹھا کر خوشخبری دیتی ہیں ، پھر بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے نفس خوش ہوتے ہیں۔ ﴿وَّلِيُذِيۡقَكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ ﴾ ’’اور تاکہ وہ تمھیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے۔‘‘ وہ تم پر بارش برساتا ہے، جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تم اس کی رحمت کا مزا چکھتے ہو اور تمھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی بندوں کو ان کا رزق فراہم کرتی ہے، لہٰذا تم ان اعمال صالحہ کی کثرت کے مشتاق ہو جاؤ جو اس کی رحمت کے خزانے کھول دیں۔ ﴿وَلِتَجۡرِيَ الۡفُلۡكُ﴾ ’’اور تاکہ کشتیاں چلیں۔‘‘ سمندر کے اندر ﴿بِاَمۡرِهٖ ﴾ اس کے حکم قدری سے ﴿وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ اور اپنی معاش اور مصالح میں تصرف کے ذریعے سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ تم شکر ادا کرو‘‘ اس ہستی کا جس نے تمھارے لیے یہ اسباب مہیا کیے اور تمھارے لیے رزق کے ذرائع پیدا کیے۔نعمتوں سے مقصود یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتوں سے سرفراز کرے اور ان نعمتوں کو تمھارے پاس باقی رکھے۔رہا نعمتوں کے مقابلے میں کفر اور معاصی کا ارتکاب کرنا تو یہ اس شخص کا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کفر سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کے بدلے ناشکری کرتا ہے۔ اس کے اس رویے سے نعمتیں اس شخص سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں۔