Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
Surah 2

Al-Baqara

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 87

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ بِٱلرُّسُلِ ۖ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَيَّدْنَـٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ 87

اور تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے در پے بھیجے ہم نے بعد اس کے رسول اور دیے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح دلائل (معجزات) اور قوت دی ہم نے اس کو ساتھ روح القدس (جبریل) کے، کیا پس جب بھی آیا تمھارے پاس کوئی رسول ساتھ اس چیز کے جس کو نہ چاہتے تھے نفس تمھارے، تو تکبر کیا تم نے، پھر ایک فریق کو جھٹلایا تم نے اور ایک فریق کو قتل کرتے رہے تم(87)

[87]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے اپنے کلیم حضرت موسیٰuکو ان میں مبعوث فرمایا، ان کو تورات عطا کی۔ پھر حضرت موسیٰuکے بعد ان میں پے در پے انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے جو تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰuکو مبعوث فرمایا اور انھیں واضح نشانیاں عطا کیں جن پر انسان ایمان لے آتا ہے۔ ﴿ وَاَيَّؔدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ﴾ یعنی ’’حضرت عیسیٰu کو روح القدس کے ذریعے تقویت دی۔‘‘ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ روح القدس سے مراد حضرت جبرئیلuہیں۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ایمان ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو قوت اور استقامت عطا کرتا ہے۔ پھر ان نعمتوں کے باوجود، جن کی قدروعظمت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا، جب وہ تمھارے پاس وہ کچھ لائے ﴿ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡـبَرۡتُمۡ﴾ ’’جن کو تمھارا دل نہیں چاہتا تھا تو تم نے (ایمان لانے کی بجائے،) تکبر کیا۔‘‘ ﴿ فَفَرِيۡقًا ﴾ یعنی انبیاء میں سے ایک فریق کو ﴿ كَذَّبۡتُمۡ١ٞ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’تم نے جھٹلایا اور ایک فریق کو تم نے قتل کر دیا۔‘‘ پس تم نے خواہشات نفس کو ہدایت پر مقدم رکھا اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ اس آیت کریمہ میں جو زجر و توبیخ اور تشدید ہے، وہ ڈھکی چھپی نہیں۔