Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
Surah 2

Al-Baqara

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 272

لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىٰهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ 272

نہیں ہے اوپر آپ کے ہدایت دینا ان کو لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے،اور جو خرچ کرو تم مال سے تو وہ تمھارے نفسوں ہی کے (فائدے کے) لیے ہے،اور نہیں خرچ کرتے ہو تم مگر واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور جو خرچ کرو گے تم مال سے، وہ پورا پورا دیا جائے گا تمھیں اور تم نہیں ظلم کیے جاؤ گے(272)

[272] اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺسے فرماتا ہے کہ مخلوق کو ہدایت پر چلا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ حق کو واضح طورپر ان تک پہنچا دیں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح مسلمان پر واجب ہے کہ صدقہ و خیرات اور دوسرے اخراجات کرے، اسی طرح کافر پر بھی یہ واجب ہے، اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو گے۔‘‘ کم ہو یا زیادہ اور خرچ کرنے والا مسلمان ہو یا کافر: ﴿ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ۠ ﴾ ’’اس کا فائدہ خود پاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَؔ وَجۡهِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور تم صرف اللہ کی رضامندی کی طلب کے لیے خرچ کرتے ہو۔‘‘ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انھیں فضول مقاصد کے لیے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمھیں دیا جائے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے دن تم پورا اجر وثواب حاصل کرو گے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ تمھارے نیک عملوںمیں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی، اور تمھارے گناہوں میں بلاوجہ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔