Maryam
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
قُلْ مَن كَانَ فِى ٱلضَّلَـٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ مَدًّا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوْا۟ مَا يُوعَدُونَ إِمَّا ٱلْعَذَابَ وَإِمَّا ٱلسَّاعَةَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضْعَفُ جُندًا 75
کہہ دیجیے! جو شخص ہے گمراہی میں تو ڈھیل دیتا ہے اسے رحمٰن (لمبی) ڈھیل دینا یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ یا عذاب اور یا قیامت تو ضرور جان لیں گے وہ کہ کون ہے کہ وہ بدتر ہے باعتبار مکان کے اورکمزور تر ہے باعتبار لشکر کے (75)
[75] جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی باطل دلیل کا ذکر کیا جو ان کے عناد کی شدت اور گمراہی کی قوت پر دلالت کرتی ہے، وہاں اس نے یہ بھی آگاہ فرما دیا کہ جو کوئی گمراہی میں مستغرق اور اس پر راضی ہے اور گمراہی کے لیے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کو اور زیادہ کر دیتا ہے اور گمراہی کے لیے اس کی چاہت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے تو جیسے یہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے)اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔‘‘﴿حَتّٰۤى اِذَا رَاَوۡا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ لوگ دیکھیں گے‘‘ جو کہتے تھے: ’’دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے اور کس کی مجلس اچھی ہے؟‘‘ ﴿ مَا يُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ ﴾ ’’جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا یا تو عذاب‘‘ یعنی قتل وغیرہ کے ذریعے ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿وَاِمَّا السَّاعَةَ﴾ ’’اور یا قیامت‘‘ جو اعمال کی جزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ فَسَيَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضۡعَفُ جُنۡدً ﴾ ’’پس عنقریب وہ جان لیں گے کہ کون بدتر ہے مقام کے لحاظ سے اور زیادہ کمزور ہے جتھے کے اعتبار سے۔‘‘ یعنی اس وقت ان کے دعوے کا بطلان ظاہر ہو گا تب یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان کا دعویٰ کس قدر کمزور تھا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ واقعی وہ بدکار لوگ تھے۔ مگر یہ علم انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا کیونکہ اب ان کا دنیا میں واپس جانا ممکن نہیں کہ وہاں وہ پہلے اعمال کے برعکس اعمال بجا لائیں ۔