Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ibrahim
Surah 14

Ibrahim

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 28–30

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ 28 جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ 29 وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ 30

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جنھوں نے بدل ڈالا اللہ کی نعمت (ایمان) کو کفر سے اور جا اتارا اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (28)(یعنی ) جہنم میں ، وہ داخل ہوں گے اس میں اور بہت ہی برا ہے وہ ٹھکانا (29) اور بنائے انھوں نے واسطے اللہ کے شریک تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اس کے راستے سے، کہہ دیجیے، تم فائدہ اٹھاؤ (دنیا میں ) پھر بلاشبہ واپسی تمھاری ہے طرف آگ کی (30)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار قریش کا اور ان کے معاملات کا مآل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت سے مراد حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت ہے۔ آپ انھیں دنیا و آخرت میں نیکیوں کے ادراک کی طرف دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے اس نعمت کو ٹھکرا کر، اس کا انکار کر کے اور اپنے آپ کو اس نعمت کو قبول کرنے سے باز رکھ کر اس نعمت کو بدل ڈالا۔ ﴿ وَ ﴾ اور دوسروں کو اس نعمت کو قبول کرنے سے روکا حتیٰ کہ ﴿ اَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِجَهَنَّمَ﴾ ’’اتارا انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بنے اور اپنی قوم کے لیے وبال بن گئے جبکہ ان سے نفع کی امید تھی۔ منجملہ اس کے یہ بھی ہے کہ غزوہ بدر کے لیے ان کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے جنگ پر نکلنے کے بڑے فوائد بیان کیے۔ تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کریں ۔ پس ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا اور جنگ بدر میں ان کے بہت سے بڑے بڑے سردار اور بہادر مارے گئے۔

[29]﴿جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا﴾ ’’جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں ‘‘ یعنی جہنم کی حرارت انھیں ہر جانب سے گھیر لے گی ﴿ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ﴾ ’’اور (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘

[30]﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور ٹھہرائے انھوں نے اللہ کے لیے مقابل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک ﴿ لِّيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنا کر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں ﴿ قُلۡ ﴾ ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ تَمَتَّعُوۡا ﴾ اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو۔ پس یہ تمھیں کوئی فائدہ نہ دیں گے ﴿ فَاِنَّ مَصِيۡرَؔكُمۡ اِلَى النَّارِ ﴾ ’’اس لیے کہ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔