بُخْل اور مَحَبَّت مال کی مَذَمَّت کا بیان
Terjemahan ini milik penerjemahnya, bukan milik Sabīl. Ia ditampilkan sebagaimana sumbernya memberikannya, sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan judul-judul penerjemah sendiri: ia tidak berdiri baris demi baris di samping teks Arab, dan membawa cacat salinan yang menjadi sumbernya. Sabīl tidak memeriksanya terhadap teks Arab, dan tidak ada ulama yang menelaahnya.
Diterjemahkan oleh Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںDibaca dari dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)diambil 2026-10-22
Yang dikatakan sumber tentangnya: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جو اپنے کُشادہ رزق کے باعِث حمد کالائق ہے، وہ ناامیدی کے بعد تکلیف کو دور کرنے والا ہے، اس نے مخلوق کو پیدا کیااور انہیں وسیع رزق عطا فرمایا اورجہاں والوں کو طرح طرح کی مالی نعمتوں سے فیضیاب کیا، ان کو اِنْقِلابِ اَحوال کے ساتھ آزمائشوں میں مبتلا کیا اور انہیں تنگی اور خوشحالی، مالداری اور محتاجی، اُمیداورنااُمیدی، دولت اور اِفلاس، عجز اور اِستِطاعَت، حرص اورصَبْر، بخل اور سخاوت،موجود پر خوشی اور مفقود پر افسوس،ایثار اور خرچ،وُسعت اورتنگی،فضول خرچی اور کنجوسی، تھوڑے پر راضی رہنے اور زیادہ کو تھوڑا سمجھنے کے درمیان رکھا ۔ یہ سب کچھ اس لئے کیاتاکہ بندوں کی جانچ ہو کہ ان میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے، کون دنیاکی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتا اورکون آخرت سے منہ موڑتے ہوئے دنیا کو ذخیرہ اور خزانہ بناتا ہے ۔ خوب دُرُودو سلام ہو حضرت سیِّدُنامحمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جن کی مِلَّت کے سبَب رب عَزَّ وَجَلّ نے تمام سابِقہ مِلَّتوں کو منسوخ کر دیا اور آپ کی شریعت کے ذریعے تمام اَدیان کو لپیٹ دیااورعاجزی کے ساتھ اپنے رب عَزَّ وَجَلّ کے راستے پر چلنے والے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آل و اصحاب پرخوب سلام ہو ۔
دنیا کے فتنے بہت کثیر ہیں اور نہایت وسیع و فراخ ہیں ،ان فتنو ں میں سب سے بڑافتنہ مال کا ہے جو زیادہ آزمائش کا باعث ہے اور مال میں ایک بڑا فتنہ یہ بھی ہے کہ کوئی اس سے بے نیازنہیں، جو اسے پالیتا ہےوہ دو حال سے خالی نہیں رہتا اگر مال نہ ملے تو وہ محتاج ہوتا ہے اور یہ محتاجی اسےکُفر تک لے جاسکتی ہے اور اگر مل جائے تو سرکَشی کا خطرہ ہوتا ہے جس کا انجام نقصان کےسوا کچھ نہیں ہوتا ۔ خُلاصۂ کلام یہ ہے کہ مال کے فائدے بھی ہیں اور آفتیں بھی،اس کے فوائد نجات دینے والے اور آفتیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں ۔ اس کے خیر کو اس کے شر سے ممتازکرنا مشکل اَمْر ہے اس کی طاقت دینی بصیرت میں راسِخ عُلَما ہی کو ہے، لوگوں کو دھوکا دینے والے نام نہادعُلَما کے بس کی بات نہیں ۔
دنیا کی مذمت کے باب میں ہم نے خاص طور پر مال کی طرف نظر نہیں کی بلکہ عمومی طور پر دنیا کی مذمت پر کلام کیا ہے کیونکہ دنیا تو انسان کو فوری حاصل ہونے والے فائدے کا نام ہے جبکہ مال اس کا بعض
حصہ ہے اسی طرح جاہ و مَنْزِلَت بھی اس کا جز ہے، پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش کی پیروی کرنا بھی دنیا کابعض حصہ ہے ،اسی طرح غصہ اور حسد بھی دنیا کا بعض ہے ، تکبُّر اور بلند مقام کی چاہت بھی اس کا ایک حصہ ہے گویا اس کے بہت سے حصے ہیں اور ان سب کا مجموعہ انسان کو فوری ملنے والا نفع ہے ۔
یہاں ہم صرف مال کا ذکر کریں گے کیونکہ اس کی آفات اور نقصانات زیادہ ہیں ۔ اگر آدمی کو مال نہیں ملتا تو فقیر بن جاتاہے اور اگرمل جاتاہے تو مالداربن جاتاہے ۔ یہ دو حالتیں ہیں جن کے سبب اِمْتِحان اور آزمائش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے پھر جس کو مال نہیں ملتا اس کی بھی دو حالتیں ہوتی ہیں: قناعت اور حرص، ان میں سے ایک قابلِ تعریف اور دوسری قابِل مَذمَّت ہے ،حرص کرنے والے کی بھی دو حالتیں ہیں جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی طمع کرنایا لوگوں سے ناامید ی کے باعث روزی کمانے کے مختلف ذرائع اپنا نا،ان دونوں حالتوں میں طَمَع زیادہ بُری حالت ہے ۔ جسے مال حاصل ہوتا ہے اس کی بھی دوحالتیں ہیں: وہ بخل اور کنجوسی کی وجہ سے مال روک کر رکھتا ہے یا پھر خرچ کرتا ہے ۔ ان میں سے بھی ایک قابلِ مذمت اور دوسری قابلِ تعریف ہے، خرچ کرنے والے کی بھی دو حالتیں ہیں: وہ فضول خرچی کرتا ہے یا اِعتِدال کی راہ اختیار کرتا ہے اورخَرْچ کرنے کے معاملے میں اعتدال قابل تعریف ہے ۔ یہ امور چونکہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لہٰذا ان سے پردہ اٹھانا اور ان کو واضح کرنا ضروری ہے ۔ ہم ان تمام باتوں کو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ 14فصلوں میں واضح کریں گے:
(۱)…مال کی مذمت(۲)…مال کی مدح سرائی(۳)…مال کے فوائد اور آفات کی تفصیل (۴)…حرص اور طمع کی مذمت (۵)…حرص اور طمع کا علاج (۶)…سخاوت کی فضیلت(۷)…سخی لوگوں کے واقعات (۸)…بخل کی مذمت(۹)…بخیل لوگوں کے واقعات (۱۰)…اِیثار اور اس کی فضیلت(۱۱)…سخاوت اور بخل کی تعریف (۱۲)…بخل کا علاج (۱۳)… مال میں لازمی ذِمّہ داریا ں(۱۴)… مال داری کی مذمت اور فقر کی تعریف ۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )
( تُوْبُوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ )
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )
پہلی فصل: مال کی مَذَمَّت اور اس کی مَحَبَّت کی بُرائی
مال کی مَذمَّت میں پانچ فرامینِ باری تعالٰی:
(1)...یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۹)
(پ۲۸،المنٰفقون:۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔
(2)...اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۵) (پ۲۸،التغابن:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان : تمہارے مال اور تمہارے بچّے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔
لہٰذاجس نے اپنے مال اور اولاد کو اس چیز پر ترجیح دی جو اللہ عَزَّ وَجَلّ کے پاس ہے تو یقیناًاس نے گھاٹے کا سودا کیا ۔
(3)...مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) (پ۱۲،ھود:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان : جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہوہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے ۔
(4)...اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ(۶) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ(۷) (پ۳۰،العلق:۷،۶)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک آدمی سرکشی کرتا ہے اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا ۔
لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ اِلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیْم نیکی کرنے کی توفیق اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ عَزَّ وَجَلّ ہی کی طرف سے ہے ۔
(5)...اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) (پ۳۰،التکاثر:۱)
ترجمۂ کنز الایمان :تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے ۔
مال کی مذمت میں سات فرامینِ مصطفٰے:
(1)... حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ یُنْبِتَانِ النِّفَاقَ فِی الْقَلْبِ کَمَایُنْبِتُ الْمَآءُ الْبَـقْلَ یعنی مال اورجاہ کی محبت دل میں اس طرح نِفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزی اُگاتا ہے ۔ (1 )
(2)...بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑے گئے دو بھوکے بھیڑئیےاتنا نقصان نہیں کرتے جتنانقصان جاہ و مَنْصَب اور مال کی محبت مسلمان آدمی کے دین میں کرتی ہے ۔ (2 )
(3)...زیادہ مال والے ہلاک ہوئے مگر جس نے اپنا مال اللہ عَزَّ وَجَلّ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح دیا(یعنی صدقہ و خیرات کیا) اورایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ (3 )
(4)... قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ اَیُّ اُمَّتِکَ شَرٌّ ؟ قَالَ الْاَغْنِیَآء یعنی بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کی امت میں کون سے لوگ برےہیں؟ارشاد فرمایا:’’مال دار لوگ ۔ ‘‘
(5)...حضور نبیّ اکرم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سےفرمایا: تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گےجو دنیا کے عُمدہ اور رَنگ بَرنگے کھانے کھائیں گے،مختلف رنگوں کے تیز رفتار گھوڑوں پر سوارہوں گے ،خوبصورت عورتوں سے نکاح کریں گے، رنگین اورعمدہ کپڑے پہنیں گے، ان کے پیٹ تھوڑی چیز پر سیرنہ ہوں گے اورنہ ان کے نفس زیادہ پر قناعت کریں گے، صبح وشام دنیا پر جھکے رہیں گے،اپنے حقیقی معبود اور رب کو چھوڑ کردنیا ہی کو اپنامعبود اور رب بنا لیں گے، اسی کی بات مانیں گے اوراسی کی خواہشات کی پیروی کریں گے ۔ (4 )جو آدمی ایسے زمانے کو پائے وہ تمہاری اولاد سے ہو یا تمہاری اولاد کی اولاد سے ہو اسے محمد بن عبد اللہ ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی طرف سے حکم ہے کہ ان لوگوں کو سلام نہ کرے، نہ ان کے مریضوں کی عیادت کرے،نہ ان کے جنازوں میں شرکت کرے اور نہ ان کے بڑوں کی عزت کرے جس نے ایسا کیایقیناً اس نے اسلام کوڈھانے میں مدد کی ۔
[1] الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الکبیرة الثالثة والخمسون بعد المائتین ، ۲ / ۴۹
[2] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی اخذ المامل ، ۴ / ۱۶۶ ، حدیث : ۲۳۸۳
[3] المصنف لعبد الرزاق ، کتاب الجامع ، باب الرخص والشدائد ، ۱۰ / ۲۵۶ ، حدیث : ۲۰۷۱۴
[4] تذکرة الموضوعات ، باب ذم الدنیا والغنی...الخ ، ص ۱۷۴
(6)...دنیاکو دنیاداروں کے لئے چھوڑدو جو شخص دنیا سے حاجت سے زیادہ لیتا ہے وہ اپنی موت کولیتا ہے جس کی اسے خبر بھی نہیں ہوتی ۔ (1 )
(7)...آدمی کہتا ہے :میرامال ،میرا مال،تیرا مال تو وہی ہے جو تونے کھاکر فنا کردیایا پہن کر بوسیدہ کردیا یا صدقہ کرکے آگے بھیج دیا ۔ (2 )
موت ناپسند کیوں؟
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں موت کو پسند نہیں کرتا؟ارشاد فرمایا:کیا تمہارے پاس مال ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں!فرمایا: اپنا مال آگے بھیج دو (یعنی آخرت کے لئے صدقہ کرو)، کیونکہ مومن کا دل اپنے مال کے ساتھ ہوتا ہے اگر اس نے اسے آگے بھیج دے تو اس سے ملنا چاہتا ہے اور اگر پیچھے چھوڑ دےتو اس کے ساتھ پیچھے رہنا چاہتا ہے ۔ (3 )
انسان کے تین دوست:
شفیع مَحشر، ساقی کوثر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: انسان کے دوست تین ہیں:ایک وہ جو اس کی روح نکلنے تک اس کے ساتھ ہوتاہے ،دوسرا اس کی قبر تک ساتھ جاتا ہے اور تیسرا میدانِ محشر تک ساتھ دیتا ہے ۔ وہ دوست جو اس کے مرنے تک ساتھ ہوتا ہے وہ اس کا مال ہے اور جو قبر تک جاتا ہے وہ اس کے گھر والے ہیں اور میدانِ مَحْشَر تک ساتھ دینے والا دوست اس کا عمل ہے ۔ (4 )
Teks dariOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472diambil 2026-10-21
Ini adalah teks Arab Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn karya al-Ghazālī sebagaimana ada dalam korpus OpenITI, dari salinan Shamela atas edisi Dār al-Maʿrifa. Tidak ada yang membandingkannya dengan buku cetak atau manuskrip, dan tidak ada ulama yang menelaahnya. Korpus itu menyebut bahwa di beberapa halaman sebagian teks hilang dan catatan kaki penyunting bercampur dengan teks; keduanya ditampilkan apa adanya. Halaman edisi cetak ditandai di tempat berakhirnya. Terjemahan-terjemahannya milik para penerjemahnya; masing-masing dibaca dari salinan yang disebutkan bersamanya dan ditampilkan sebagai teks tersendiri di bawah setiap kitab dengan judul-judulnya sendiri: tidak satu pun disejajarkan baris demi baris dengan teks Arab, terjemahan Inggris Karim meringkas kitab sebagaimana dikatakan penerjemahnya, dan masing-masing membawa cacat salinan yang menjadi sumbernya. Sabīl tidak menerjemahkan apa pun, tidak memeriksa terjemahan mana pun terhadap teks Arab, dan tidak ada ulama yang menelaahnya.