Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · Saba
Sourate 34

Saba

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Versets 51–54

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ فَزِعُوا۟ فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا۟ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ 51 وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ 52 وَقَدْ كَفَرُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۖ وَيَقْذِفُونَ بِٱلْغَيْبِ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ 53 وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ فِى شَكٍّ مُّرِيبٍۭ 54

اور کاش کہ آپ دیکھیں! جب وہ پریشان ہوں گے، تو نہ بچ سکیں گے، اور پکڑ لیے جائیں گے وہ نزدیک جگہ ہی سے (51) اور وہ کہیں گے، ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر، اور کہا ں ان کے لیے ہوگا حاصل کرنا (ایمان کا اتنی) دور جگہ سے(52) حالانکہ انکار کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کےاس سے پہلے (دنیا میں) اور پھینکتے رہے بن دیکھے (نشانے پر) دور جگہ سے ہی(53) اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور درمیان ان چیزوں کے جو وہ چاہیں گے، جیسے کیا گیاان جیسے کام کرنے والوں کے ساتھ اس سے پہلے، بلاشبہ وہ تھے ایسے شک میں (جو) اضطراب میں ڈالنے والا تھا(54)

[51] اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں‘‘ اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذۡ فَزِعُوۡا﴾ ’’جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے‘‘ عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

[52]﴿وَّقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔

[53] اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ ﴾ ’’اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)‘‘ ﴿بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’دور دراز سے بن دیکھے ہی‘‘ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔

[54]﴿وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انھیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انھیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ ﴿كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ ﴾ ’’جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکت خیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی گئیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِيۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴾ ’’بے شک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ جو انھیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا ، اس لیے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لیے کہا گیا تو انھوں نے توبہ نہ کی۔