Aller au contenu
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ahzaab
Sourate 33

Al-Ahzaab

Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.

Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21

Versets 70–71

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَقُولُوا۟ قَوْلًا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَـٰلَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا 71

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے، اور کہو بات سیدھی(سچی)(70)وہ درست کر دے گا تمھارے لیے تمھارے عمل اور بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ اور جو اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی، تو تحقیق کامیابی حاصل کر لی اس نے کامیابی بہت بڑی(71)

[70] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہنے پر خاص طور پر زور دیا ہے (اَلْقَوْلُ السَّدِیْد) اس قول کو کہتے ہیں جو صحیح اور حق کے موافق یا اس کے قریب تر ہو، مثلاً: قراء تِ قرآن، ذکرِ الٰہی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، علم کا سیکھنا ، پھر اس کی تعلیم دینا، علمی مسائل میں حق و صواب کے حصول کی حرص، ہر اس راستے پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا جو حق تک پہنچتا ہو اور وہ وسیلہ اختیار کرنا جو حق کے حصول میں مددگار ہو۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نرم اور لطیف کلام بھی قولِ سدید کے زمرے میں آتا ہے، کوئی ایسی بات کہنا جو خیرخواہی کو متضمن ہو، یا کسی درست تر امر کا مشورہ دینا یہ سب قولِ سدید میں داخل ہیں۔

[71] پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اور قول سدید پر مترتب ہوتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿يُّصۡلِحۡ لَكُمۡ اَعۡمَالَكُمۡ ﴾ یعنی تقویٰ اعمال کی اصلاح کا سبب اور ان کی قبولیت کا ذریعہ ہے کیونکہ تقویٰ کے استعمال ہی سے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف پاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾(المائدۃ : 5؍ 27) ’’اللہ تعالیٰ صرف متقین ہی کا عمل قبول فرماتا ہے۔‘‘ تقویٰ کے وجود سے انسان کو عمل صالح کی توفیق عطا ہوتی ہے، تقویٰ ہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان کے ثواب کی مفاسد سے حفاظت کرتا ہے اور ثواب کو کئی گنا زیادہ کرتا ہے۔اسی طرح تقویٰ اور قول سدید میں خلل اور فساد اعمال، ان کی عدم قبولیت اور ان کے اثرات مترتب نہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ ﴿وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا‘‘ جو تمھاری ہلاکت کا سبب ہیں۔ تقویٰ ہی سے تمام معاملات درست اور تمام برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بہت بڑی مراد پائے گا۔‘‘