Al-Muminoon
Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.
Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21
بَلْ قَالُوا۟ مِثْلَ مَا قَالَ ٱلْأَوَّلُونَ 81 قَالُوٓا۟ أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَـٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ 82 لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا هَـٰذَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ 83
بلکہ انھوں کہامثل اسی کے جو کہا تھا پہلوں نے (81) انھوں نے کہا، کیاجب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں ، کیا ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (82) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے ہیں ہم، ہم اور ہمارے باپ دادا بھی یہی اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (83)
[81,83]﴿ بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَا قَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔‘‘ یعنی یہ مکذبین بھی انھی راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے، زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہاکرتے تھے:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ ﴾’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جا سکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا هٰؔذَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی، ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یہ تو محض قصے کہانیاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ۔وہ جھوٹ کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برپا ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(غافر:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلۡقَهٗ١ؕ قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسۗ:36؍78) ’’وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ ﴾(الحج:22؍5) ’’تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے،ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔‘‘