Ibrahim
Voici un tafsîr dans une autre langue que l’arabe, tel que la Quranic Universal Library (QUL, de Tarteel) le donne, pris dans la copie ouverte des données de QUL que conserve spa5k/tafsir_api. La fiche de QUL ne dit ni qui l’a écrit ou traduit ni quelle édition imprimée il suit, et n’indique aucune licence pour le texte, si bien que le droit de le montrer n’est pas vérifié. Personne ne l’a comparé à un livre imprimé, et aucun savant ne l’a relu. Chaque passage se tient à côté des versets qu’il commente, qui sont le texte coranique de Tanzil, montré tel qu’il y est. Sabīl n’en a rien écrit ni traduit.
Texte deQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITpris le 2026-10-21
وَقَالَ ٱلشَّيْطَـٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ 22 وَأُدْخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌ 23
اور کہے گا شیطان، جب فیصلہ کر دیا جائے گا تمام معاملات کا، بے شک اللہ نے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ سچااور میں نے وعدہ کیا تھا تم سے پس خلاف ورزی کی میں نے تم سے اور نہیں تھا واسطے میرے تم پر کوئی غلبہ سوائے اس کے کہ میں نے بلایا تمھیں اور تم نے مان لی میری بات، سو نہ ملامت کرو تم مجھے اور ملامت کرو تم اپنے آپ کو ، نہیں ہوں میں تمھاری فریاد رسی کرنے والااور نہ تم ہی میری فریاد رسی کرنے والے ہو، بلاشبہ میں تو انکار کرتا ہوں اس کا جو تم شریک ٹھہراتے تھے مجھے (اللہ کا) پہلے اس سے، بے شک ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (22) اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، ساتھ حکم اپنے رب کے، ان کی (ملاقات کی) دعاء ہو گی ان میں سلام (23)
[22]﴿وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ﴾ شیطان، جو دنیا میں واقع ہونے والی ہر برائی کا سبب ہے جہنمیوں سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہو کر کہے گا:﴿لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’جب فیصلہ ہو چکے گا سب امور کا‘‘ اور جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنمی جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ﴾ ’’جو وعدہ اللہ نے کیا تھا وہ تو سچ تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان پر تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا مگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی، اگر تم نے اس کی اطاعت کی ہوتی تو تم فوز عظیم سے بہرہ ور ہوتے ﴿ وَوَعَدۡتُّكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا‘‘ بھلائی کا ﴿ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ ﴾ ’’پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں دلائی تھیں وہ حاصل نہیں ہوئیں اور نہ کبھی حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا‘‘ میرے پاس کوئی دلیل اور اپنے قول کی کوئی تائید نہ تھی ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ﴾ ’’مگر یہ کہ میں نے تمھیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی‘‘ یعنی میرے پاس زیادہ سے زیادہ جو اختیار تھا وہ یہ تھا کہ میں نے تمھیں اپنے مقصد کی طرف بلایا اور تمھارے سامنے اسے خوب آراستہ کیا، تم نے اپنی خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی کرتے ہوئے میری دعوت پر لبیک کہا۔جب صورت حال یہ ہے ﴿ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’تو تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو‘‘ پس موجب عذاب میں تم ہی پر دارومدار ہے اور تم ہی اس عذاب کا سبب ہو۔ ﴿ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ ﴾ ’’میں تمھاری فریاد کو نہیں پہنچ سکتا‘‘ یعنی جس شدت عذاب میں تم مبتلا ہو میں تمھاری مدد نہیں کر سکتا۔ ﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ﴾ ’’اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو‘‘ ہر ایک کے لیے اپنے اپنے حصے کا عذاب ہے ﴿ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’میں منکر ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا تھا اس سے پہلے‘‘ یعنی تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا، میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہ تھا اور تم پر میری اطاعت واجب نہ تھی پس میں تم سے بری الذمہ ہوں ﴿ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ بے شک شیطان کی اطاعت کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘ وہ اس عذاب میں ابدالآباد تک رہیں گے۔ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں شیطان کی اطاعت سے ڈرایا اس نے شیطان کے مقاصد اور ان راستوں کی نشاندہی کردی ہے جہاں سے وہ داخل ہو کر انسان کو گمراہ کرتا ہے اس کا مقصد صرف انسان کو جہنم کی آگ میں جھونکنا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر واضح کر دیا ہے کہ جب شیطان اپنے لشکر سمیت جہنم میں داخل ہو گا تو وہ اپنے متبعین سے بریء الذمہ ہو جائے گا اور ان کے شرک سے صاف انکار کر دے گا۔ ﴿وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور اللہ باخبر کی مانند تمھیں کوئی خبر نہیں دے سکتا۔‘‘آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شیطان کے پاس کوئی اختیار نہیں اور ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا ﴿اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡنَ﴾(النحل: 16؍100) ’’شیطان کا زور تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا والی اور سرپرست بناتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ پس وہ ’’زور‘‘ اور ’’تسلط‘‘ جس کی اللہ تعالیٰ نے نفی کی ہے اس سے مراد حجت اور دلیل ہے، شیطان جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر درحقیقت اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتا ہے کہ ان کو شبہات میں مبتلا کرے، گناہوں کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کرے، جن سے متاثر ہو کر وہ گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرلیں ۔ رہا وہ ’’زور‘‘ جس کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے تو اس سے مراد وہ تسلط ہے جس کے بل پر وہ اپنے دوستوں کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے اور ان کو نافرمانیوں پر ابھارتا ہے۔ بندے شیطان سے موالات پیدا کر کے اور اس کے گروہ میں شامل ہو کر اس کو اپنے آپ پر مسلط کر لیتے ہیں ۔ اس لیے شیطان کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں چلتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
[23] اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاُدۡخِلَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور داخل کیے گئے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے قول و فعل اور اعتقاد کے ساتھ دین کو قائم کیا ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’ایسے باغات میں ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘‘ ان جنتوں میں ایسی لذات و شہوات ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا بِـاِذۡنِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے‘‘ یعنی وہ اپنی قوت و اختیار سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار سے جنت میں داخل ہوں گے ﴿ تَحِيَّتُهُمۡ فِيۡهَا سَلٰمٌ﴾ ’’ان کی دعائے ملاقات ہے ان میں سلام‘‘ وہ سلام اور اچھے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا خیرمقدم کریں گے۔