Aller au contenu
Livre 39 · Iḥyā’ ʿulūm al-dīn
Livre 39 · اردو

فکر و عبرت کا بیان

Cette traduction est celle de son traducteur, non celle de Sabīl. Elle est montrée telle que sa source la donne, comme un texte à part sous chaque livre, avec les titres du traducteur : elle ne se tient pas ligne à ligne en regard de l’arabe et garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl ne l’a pas vérifiée sur l’arabe, et aucun savant ne l’a relue.

Traduit par Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںLu dans dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)pris le 2026-10-22

Ce que la source en dit : The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس کی بُزرگی کا کوئی جہت وکنارہ نہیں اور نہ ہی اس کی عظمت کی بلندی تک پہنچنے کے لئے ذہنی تصورات اورعقلوں کوکوئی راہ ہےبلکہ امید واروں کے دل اس کی کبریائی کے صحرا میں حیران وپریشان ہیں۔ جب یہ حیرانگی اپنے مطلوب کو پانےکی کوشش میں جوش مارتی ہے تو اُس کے جلال کے پردے اِسے پیچھے دھکیل دیتے ہیں اور جب مایوس ہوکر واپس جانے کا ارادہ کرتی ہے تو جمال کے پردوں سے آواز آتی ہے (راہ ِ سُلوک پر )صبر کر!صبر کر! پھر اس سے کہا جاتا ہے : ”اپنے بندہ ہونے کی پستی میں غور وفکر کرو کیونکہ اگر تم جلالِ رَبوبِیَّت میں غور وفکر کرو گے تو اس تک نہ پہنچ سکو گے۔ اگر تم اپنے بارے میں غور وفکر کرنا نہیں چاہتے تو دیکھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے انعام واحسان کیسےمسلسل تم پر برس رہے ہیں لہٰذا ہرنعمت پر نئے سرے سے ذکر وشکر کرواور تقدیر کے سمندر میں غور وخوض کرو کہ کس طرح عالَمِین پر خیر وشر، نفع و نقصان ، تنگی و آسانی، کامیابی و ناکامی ، جوڑ توڑ، لپیٹنا اور پھیلانا ، ایمان و کفراور پہچان اور انکار کو جاری کیا گیا ہے۔اگر نظر افعال سے ذات کی طرف بڑھی تو یقیناً تم نے بہت بڑی جرأت کی اور ظلم اور ناانصافی کے سبب اپنے نفس کو بشریت کی حد سے آگےبڑھنے کے خطرے میں ڈال دیا حالانکہ عقلیں تو نورِ جلال کی ابتدا میں ہی مغلوب ہوگئیں اور مجبوراً اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے لوٹ گئیں (نورِ جلال کی انتہا تودور کی بات ہے)۔

خوب دُرود وسلام ہو اُن پر جو اولادِ آدم کے سردار ہیں اگرچہ انہوں نے اس سرداری کو فخر شمار نہ کیا ، ایسا دُرود جو میدانِ قیامت میں ہمارےلئے ذخیرہ ووسیلہ ہوجائے اور آپ کی آل و اَصحاب پربھی خوب دُرود وسلام ہو جن میں سے ہر ایک آسمانِ دین کا بدرِ کامل(یعنی مکمل چاند) اور مسلمان جماعتوں کا قائدہے۔

ایک سال کی عبادت سے بہتر :

حدیْثِ مبارک میں آتا ہے : ”لمحہ بھرغور وفکر کرنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔“(7 )

قرآنِ مجید میں سوچ وبچار، انجام کی فکر اورعبرت کے حصول پر بہت زیادہ ابھارا گیا ہے۔ یہ بات مخفی نہیں کہ غوروفکر ہی انوار و تجلیات کی چابی اور بصیرت کی ابتدا ہے۔یہ علوم کے لئے مچھلی کے جال کی طرح اور معارف ومفاہیم کے لئے شکار گاہ ہے۔ اکثر لوگ اس کی فضیلت اوررُتبے کو تو جانتے ہیں لیکن وہ اس کی حقیقت، فوائد، ابتدا ، کیفیت اور اس کے راستوں سے بے خبر ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ غور وفکر کیسے کریں؟ کس کے بارے میں کریں؟ کیوں کریں؟ فکر سے مطلوب کیا ہو؟مقصود بذاتِ خود فکر ہے یا اس سے کوئی فائدہ مقصودہے؟ اگر ثمرہ ونتیجہ مقصود ہے تو وہ علوم ہیں یا احوال یا علوم واحوال دونوں؟

ان تمام باتوں سے پردہ اٹھانا ضروری ہے۔ پہلےہم غور وفکر کی فضیلت پھر اس کی حقیقت اور پھر اس کا نتیجہ بیان کریں گے اور اس کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ مقاماتِ فکر بیان کریں گے۔

1 اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ(۲) ترجمۂ کنز الایمان :اور اس جان کی قسم جو اپنے اُوپر بہت ملامت کرے۔( پ ۲۹، القیامة :۲)

2 جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷)ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸)فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹)وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان :اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔( پ ۳۰، الفجر :۲۷ تا ۳۰)

3 جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ(۲۲) ترجمۂ کنز الایمان :پھر جب چاہا اسے باہر نکالا۔( پ ۳۰، عبس :۲۲)

4 سنن الترمذی ، کتاب صفة القیامة ، باب ۲۵، ۴ / ۲۰۷، حدیث :۲۴۶۷

5 المعجم الاوسط ، ۳ / ۱۸۷، حدیث :۴۲۷۸ المستدرک ، کتاب الرقاق ، باب شرف المؤمن قیام اللیل ، ۵ / ۴۶۳، حدیث :۷۹۹۱

6 اس لغزش کا پس منظر یہ ہے:شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا ( عَلَیْہِمَا السَّلَام ) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجْرِخُلد بتادوں؟حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے انکار فرمایا۔اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے؟ بایں خیال حضرت حوّا ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا )نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم( عَلَیْہِ السَّلَام )کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا، حضرت آدم ( عَلَیْہِ السَّلَام )کو خیال ہوا کہ(فرمانِ الٰہی) لَاتَقْرَبَا کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔( خزائن العرفان ، پ ۱، البقرة ، تحت الاية :۳۶ )

7 کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی ، باب ما ذکر من الفضل فی المتفکرفی ذالک ، ص ۳۳، حدیث :۴۴

قوت القلوب ، الفصل السادس : فی ذکرعمل المرید بعدصلاةالغداة ، ۱ / ۲۹

باب نمبر1 : غور وفکر کی فضیلت، حقیقت اور اس کے مقامات

(اس میں تین فصلیں ہیں)

پہلی فصل : غور وفکر کی فضیلت

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتابِ عزیز میں بے شمار مقامات پرغورو فکر کرنے کا حکم دیا اورغوروفکر کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشادباری تعالیٰ ہے :

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ- ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۹۱)

ترجمۂ کنز الایمان : جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹےاور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا۔

حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ ذاتِ باری تعالیٰ میں غور وفکر کرنے لگے تو سیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں غور وفکر نہ کرو کیونکہ تم رب تعالیٰ کو نہیں جان سکتے جیسے اسے جاننے کا حق ہے۔“(1 )

غوروفکر کے متعلق دو فرامین مصطفٰے :

(1)…ایک دن رحمَتِ عالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابَۂ کرام کی ایک جماعت کے پاس آئے جو غور وفکر میں مصروف تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”تم کلام کیوں نہیں کر رہے؟“ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ”ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کررہے ہیں۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”تم ایسے ہی کرتے رہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اوراس کی ذات میں غور وفکر نہ کرو، مغرب کی جانب ایک سفید زمین ہے جو چالیس دن کی مسافت پر واقع ہے، اس کا نور اس کی سفیدی ہے، وہاں مخلوقِ خدا میں سے ایک ایسی مخلوق ہے جس نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کی۔“ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی : ” یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! شیطان ان میں نہیں؟“ ارشاد فرمایا : ”وہ نہیں جانتے کہ شیطان پیدا بھی ہوا ہے یا نہیں۔“ عرض کی گئی : ”کیا وہ اولادِ آدم ہیں؟“ ارشاد فرمایا : ”وہ توحضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے پیدا ہونے یا نہ ہونے کو بھی نہیں جانتے۔“(2 )

(2)…حضرت سیِّدُنا عطاء بن ابورَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ”میں اورحضرت عبید بن عُمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دن حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس گئے، ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا : ”اے عبید! ہمارے پاس آنے سے تمہیں کیا چیز روکتی ہے؟“ عرض کی : آقائے دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے کہ”کبھی کبھی ملنا محبت بڑھاتا ہے۔“ پھر حضرت سیِّدُناعُبَیْد بن عُمَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا : ”آپ ہمیں رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کوئی بہت ہی پسندیدہ بات ارشاد فرمائیں جو آپ نے ان میں دیکھی ہو۔“یہ سن کر حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں اور فرمایا : آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہرمعاملہ ہی پسندیدہ ہے، ایک رات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے حتّٰی کہ میرا جسم ان کے جسم سے مَس ہو گیا۔ پھر فرمایا : ”مجھے چھوڑدو، میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں۔“ چنانچہ آپ مشکیزے کی طرف بڑھے، اس سے وضو فرمایا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔نماز میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس قدر روئے کہ آپ کی مبارک داڑھیتر ہوگئی، پھر سجدے میں گئے حتّٰی کہ زمین بھی بھیگ گئی، پھر کروٹ کے بل بیٹھے رہے یہاں تک کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجر کی اطلاع دی اور عرض کی : ” یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے وسیلہ سے آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیئے پھر آپ کو کس چیز نے رُلایا؟“ ارشاد فرمایا : اے بلال! میں کیوں نہ روؤں حالانکہ آج رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے :

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ(۱۹۰) ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان : بےشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔

پھر فرمایا : خرابی ہے اس کے لئے جو اس کو پڑھے اور اس میں غور وفکر نہ کرے۔(3 )

حضرت سیِّدُنا امام اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ زمین وآسمان کی تخلیق اور دن رات کے بدلنے کے متعلق غور وفکر کی انتہا کیا ہے؟ تو فرمایا : انہیں پڑھنا اور سمجھنا۔

غوروفکر کے متعلق21 اقوالِ بزرگانِ دین :

(1)…حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ النَّافِع بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوذرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعد ایک بصری شخص آپ کی والدہ کے پاس آیا اور ان سے حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عبادت کے متعلق پوچھاتو انہوں نےفرمایا : ”وہ دن کا اکثر حصہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھے غور وفکر کرتے رہتے۔“

(2)…حضرت سیِّدُنا حسن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ”لمحہ بھر کا غور وفکر پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔“

(3)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ”غور وفکر ایک ایسا آئینہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور برائیاں دکھاتا ہے۔“

عمل کا مغز :

(4)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے کہا گیا کہ آپ بہت طویل غور وفکر کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ”غوروفکر عمل کا مغز ہے۔“

(5)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اکثر یہ شعر بطورِ مثال بیان کرتے :

اِذَا الْمَرْءُ كَانَتْ لَهٗ فِكْرَةٌ فَفِیْ كُلِّ شَیْءٍ لَهٗ عِبْرَةٌ

ترجمہ : جب انسان غوروفکر کرتا ہے تو اسےہر شےسے عبرت حاصل ہوتی ہے۔

حضرت سیِّدُنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی روحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کےحواریوں نے آپ سے کہا : ” یَاروحَ اللہ ! کیا آج روئے زمین پر آپ کی مثل کوئی ہے؟“ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ”ہاں! جس کا بولنا ذکر، خاموش رہنا فکر اور نگاہ عبرت والی ہو تو وہ میری مثل ہے۔“

کلام، خاموشی اور نگاہ :

(6)…حضرت سیِّدُناحسن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا کہ جس کے کلام میں کوئی حکمت نہ ہو وہ بے کار ہے، جس کی خاموشی میں غوروفکر نہ ہو وہ غلطی ہے اور جس کی نگاہ میں عبرت نہ ہو وہ کھیل ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے:

40 sur 386
Le texte arabe
كتاب التفكر وهو الكتاب التاسع من ربع المنجيات من كتاب إحياء علوم الدين

Texte du corpusOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472pris le 2026-10-21

Ceci est le texte arabe de l’Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn d’al-Ghazālī tel que le corpus OpenITI le donne, d’après la copie de Shamela de l’édition Dār al-Maʿrifa. Personne ne l’a comparé au livre imprimé ni à un manuscrit, et aucun savant ne l’a relu. Le corpus signale que, dans certaines pages, une partie du texte manque et que les notes de l’éditeur sont mêlées au texte ; l’un et l’autre sont montrés tels quels. Les pages de l’édition imprimée sont marquées là où elles finissent. Les traductions sont celles de leurs traducteurs ; chacune a été lue dans la copie nommée avec elle et est montrée comme un texte à part sous chaque livre, avec ses propres titres : aucune n’est placée ligne à ligne en regard de l’arabe, l’anglais de Karim abrège le livre comme son traducteur le dit, et chacune garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl n’a rien traduit, n’a vérifié aucune traduction sur l’arabe, et aucun savant n’en a relu une.