Aller au contenu
Livre 25 · Iḥyā’ ʿulūm al-dīn
Livre 25 · اردو

غصه، کینه اور حسد کی مذمت کا بیان

Cette traduction est celle de son traducteur, non celle de Sabīl. Elle est montrée telle que sa source la donne, comme un texte à part sous chaque livre, avec les titres du traducteur : elle ne se tient pas ligne à ligne en regard de l’arabe et garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl ne l’a pas vérifiée sur l’arabe, et aucun savant ne l’a relue.

Traduit par Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںLu dans dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)pris le 2026-10-22

Ce que la source en dit : The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

(اس میں ایک مقدمہ اور چار ابواب ہیں)

مقدمہ:

تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جس کے عَفْو ودَرْگُزر اور رحمت پر وہی لوگ بھروسا کرتے ہیں جو رحمت کی امیدرکھنے والے ہیں اوراس کے غضب اور دبدبے سے وہی ڈرتے ہیں جو اس کا خوف رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے بندوں کو آہستہ آہستہ وہاں لے جائے گا جہاں سےاُنہیں خبر نہ ہوگی اور ان پر خواہشات کو مسلَّط کرکے جن خواہشات کو وہ چاہتے ہیں انہیں چھوڑنے کاحکم دیا ۔ انہیں غصے میں مبتلا کرکے اس بات کا حکم دیاکہ وہ غصے کی حالت میں غصہ پی جائیں اور انہیں تکالِیف اور لذّات میں مبتلا کرکے انہیں اس میں چھوڑے رکھا تاکہ جانچ ہو کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں اور ان کی محبت کا امتحان لیا تاکہ ان کے دعوے کی سچائی ظاہر ہو ۔ انہیں یہ بتادیا کہ جو کچھ وہ چھپاتے یا ظاہر کرتے ہیں اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہےاور انہیں اس بات سے ڈرایاکہ وہ اچانک انہیں غفلت کی حالت میں پکڑ لے ۔ چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ(۴۹)فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠(۵۰) (پ۲۳،يٰسٓ:۴۹،۵۰)

ترجمۂ کنز الایمان : راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی کہ انہیں آ لے گی جب وہ دنیا کے جھگڑے میں پھنسے ہوں گے تو نہ وصیّت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر پلٹ کرجائیں ۔

اوردُرُوْد ہو ہمارے سردارحضر ت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو ایسے رسول ہیں جن کے جھنڈے تلےبروزِ قیامت تما م انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہوں گےاور ان کی آل واصحاب پرجو ہدایت کے چراغ اور پسندیدہ قائدہیں اِن پر تمام اگلی پچھلی مخلوق کی تعداد کے برابر درود اور خوب سلام ہو اور اِن کی بَرَ کَت سے تمام اَوَّلِین وآخِرِین کو بلند مقام نصیب ہو ۔

غصہ دلوں پر چڑھنے والی بھڑکتی آگ کا ایک شُعلہ ہے جو دل کے اندر اس طرح چُھپا ہوتا ہے جس طرح راکھ کے نیچے چنگاری ہوتی ہے ۔ یہ غصہ ہر ہٹ دھرم سرکش کے دل میں چُھپے تکبُّر کو اس طرح باہر نکالتا ہے

جس طرح پتھر لوہے سے آگ نکالتا ہے ۔ اربابِ نظر و اہْلِ مُکَاشَفہ نے نورِ یقین سے اس بات کو جان لیا ہے کہ انسان کی ایک رگ کا سلسلہ شیطان لعین تک دراز ہےپس جس شخص پر غصے کی آگ غالب ہوئی یقیناً شیطان سے اس کی قربت بھی مضبوط ہو گئی ہے کیونکہ شیطان ہی نے کہاتھا:

خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ(۱۲) (پ۸،الاعراف:۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان : تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اُسے مٹی سے بنایا ۔

مٹی کی شان سُکُون اور وقار ہے جبکہ آگ کی خاصیت بَھڑَک اٹھنا اور حرکت و اضطراب ہے اور غصے کا نتیجہ کینہ و حسد ہیں ۔ ان کے سبب جس نے ہلاک ہونا ہے وہ ہلاک ہو جاتاہے اور جس نے خراب ہونا ہے وہ خراب ہو جاتاہے اور ان دونوں کا مرکز گوشت کی ایک بوٹی ہےجب وہ ٹھیک ہوتی ہے تو جسم کے تمام اعضاء ٹھیک ہوتے ہیں ۔ کینہ،حَسَداورغُصّہ ان کاموں میں سے ہیں جو انسان کو ہلاکت کے مقامات کی طرف لے جاتے ہیں،لہٰذا ہلاکت کے مقامات سے واقِـفِیَّت ضروری ہے تاکہ ان سے ڈرے اور بچے اور اگر یہ باتیں دل میں پیدا ہوگئی ہیں تو انہیں دل سے دور کرےاور اگر دل میں راسِخ ہوگئی ہیں تو دَواسےان کا علاج کرے کیونکہ جو شَر کو نہیں پہچانتا وہ اس میں پڑ جاتا ہے اور اگر کوئی پہچانتا تو ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ کس طریقے سے شر کو دور کیا جائے تو یہ اس کے لئے کافی نہیں ۔

ہم اس باب میں غصے کی مَذَمَّت اورکینہ وحَسَد کی آفات کے مُتَعَلِّق دَرج ذیل امور بیان کریں گے: (۱)…غصہ کی مذمت ۔ (۲)…غصہ کی حقیقت ۔ (۳)…رِیاضت کے ذریعے مکمل طور پرغصے کاا زالہ ممکن ہے یا نہیں؟ (۴)…غصہ دلانے والے امور ۔ (۵)…غصہ کے وقت اس کا عِلاج ۔ (۶)…غُصّہ پی جانے کی فضیلت ۔ (۷)…تحُّمل مزاجی کی فضیلت ۔ (۸)…انتقام اور تَشَفِّی کے لئے جائز کلام کی مقدار ۔ (۹)…کینہ اور اس کے نتائج ۔ (۱۰)…عَفْو ودَرْگُزراور نرمی برتنے کی فضیلت ۔ (۱۱)…حَسَدکی مذمت ۔ (۱۲)…حَسد کی حقیقت، اسباب اور علاج نیز اس کا ازالہ کس قدر ضروری ہے ۔ (۱۳)…دوست اَحباب، بھائیوں ،چچا زاد بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سے زیادہ حَسدکرنے کی وجہ ۔ (۱۴)…(ان کے مقابلے میں)دوسروں سے کم حَسد ہونے کی وجہ ۔ (۱۵)…دل سے حسد کی بیماری کو دُور کرنے کی دوا ۔

(۱۶)… دل سے حسد کو دور کرنا کس قدر ضروری ہے؟

باب نمبر 1: غصہ کا بیان

(اس میں پانچ فصلیں ہیں)

پہلی فصل: غصہ کی مَذَمَّت کابیان

اللہ عَزَّ وَجَلّ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۲۶) (پ۲۶،الفتح: ۲۶)

ترجمۂ کنز الایمان : جب کہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ (ضد) رکھی وہی زمانۂ جاہلیت کی اَڑ تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔

اس آیتِ مبارَکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کفارمکہ کی مذمت بیان کی کہ انہوں نے باطل غصے کی بنیاد پر جاہلیت کی حَمِیَّت(غیرت) کا مظاہرہ کیا جبکہ مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر سکون اور وقار اتارا ۔

غصہ کی مَذمَّت میں10 فرامین مصطفٰے:

(1)…ایک شخص نے رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کوئی مختصر عمل بتائيے؟آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَا تَغْضَبْ یعنی غصہ نہ کیا کرو ۔ “ اس نے دوبارہ یہی سوال کیاتو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:” لَا تَغْضَب یعنی غصہ نہ کیا کرو ۔ “(1 )

(2)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: مجھے کوئی مختصر بات بتائیے تاکہ میں اسے سمجھ سکوں ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو ۔ میں نے پھر یہی سوال کیا لیکن آپ نے دوبارہ یہی فرمایا کہ غصہ نہ کیاکرو ۔ (2 )

(3)…حضرت سیِّدُنا ابن عَمرو رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا فرماتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب سے مجھے کیا چیز بچاسکتی ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا: غصہ نہ کیاکرو ۔ (3 )

[1] بخاری ، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب ، ۴ / ۱۳۱ ، حدیث : ۶۱۱۶

[2] المسند للامام احمد بن حنبل ، احادیث رجال من اصحاب النبی ، ۹ / ۵۰ ، حدیث : ۲۳۱۹۸

[3] المسندللامام احمد بن حنبل ، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو ، ۲ / ۵۸۷ ، حدیث : ۶۶۴۶

(4)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےہم سےپوچھا تم پہلوان کسے سمجھتے ہو؟ ہم نے عرض کی : جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:وہ پہلوان نہیں بلکہ پہلوان وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پرقابو رکھے ۔ (1 )

(5)…کسی کو پچھاڑدینے والا بہادر نہیں ہوتا بلکہ بہادر تو وہ ہوتا ہے جو غصے کے وقت خودکو قابو میں رکھے ۔ (2 )

(6)…جو شخص اپنے غصے پر قابو پاتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا عیب چھپاتا ہے ۔ (3 )

حضرت سیِّدُناسلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَاالسَّلَام نے ارشادفرمایا:اے بیٹے! زیادہ غصہ کرنے سے بچو کیونکہ زیادہ غصہ بُردبار آدمی کے دل کوہلکا کر دیتاہے ۔

حضرت سیِّدُنا عِکرِمہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مقدسہ:

وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اور سردار اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے بچنے والا ۔

کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’سیِّد‘‘سے مراد وہ ہے جس پر غصہ غالب نہ آئے ۔

(7)…حضرت سیِّدُناابودَردَاء رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: غصہ نہ کیا کرو ۔ (4 )

حضرت سیِّدُنایحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے حضرت سیِّدُناعیسٰی رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے

[1] مسلم ، کتاب البروالصلة والآداب ، باب قبح الکذب الخ ، حدیث : ۲۶۰۸ ، ص ۱۴۰۶

[2] بخاری ، کتاب الادب ، باب الحذر من الغضب ، ۴ / ۱۳۰ ، حدیث : ۶۱۱۴

[3] المعجم الکبیر ، ۱۲ / ۳۴۷ ، حدیث : ۱۳۶۴۶

40 sur 990
Le texte arabe
كتاب ذم الغضب والحقد والحسد وهو الكتاب الخامس من ربع المهلكات من كتاب إحياء علوم الدين

Texte du corpusOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472pris le 2026-10-21

Ceci est le texte arabe de l’Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn d’al-Ghazālī tel que le corpus OpenITI le donne, d’après la copie de Shamela de l’édition Dār al-Maʿrifa. Personne ne l’a comparé au livre imprimé ni à un manuscrit, et aucun savant ne l’a relu. Le corpus signale que, dans certaines pages, une partie du texte manque et que les notes de l’éditeur sont mêlées au texte ; l’un et l’autre sont montrés tels quels. Les pages de l’édition imprimée sont marquées là où elles finissent. Les traductions sont celles de leurs traducteurs ; chacune a été lue dans la copie nommée avec elle et est montrée comme un texte à part sous chaque livre, avec ses propres titres : aucune n’est placée ligne à ligne en regard de l’arabe, l’anglais de Karim abrège le livre comme son traducteur le dit, et chacune garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl n’a rien traduit, n’a vérifié aucune traduction sur l’arabe, et aucun savant n’en a relu une.