Aller au contenu
Livre 16 · Iḥyā’ ʿulūm al-dīn
Livre 16 · اردو

گوشہ نشینی کے آداب

Cette traduction est celle de son traducteur, non celle de Sabīl. Elle est montrée telle que sa source la donne, comme un texte à part sous chaque livre, avec les titres du traducteur : elle ne se tient pas ligne à ligne en regard de l’arabe et garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl ne l’a pas vérifiée sur l’arabe, et aucun savant ne l’a relue.

Traduit par Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںLu dans dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)pris le 2026-10-22

Ce que la source en dit : The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے بڑی اورعظیم الشان نعمتوں سے اپنی منتخب واشرف مخلوق (انسانوں)کو نوازا……ان کی ہمتوں کو اپنی محبت کی طرف پھیرا……اپنی نعمتوں اور عظمتوں کے مشاہدے کی لذت سے انہیں وافرحصہ عطا فرمایا……ان کے رازوں کو اپنی مناجات اور لطف سے راحت بخشی…… ان کے دلوں میں دنیا کے مال و متاع اور اس کی خوبصورتی کو حقیر بنا دیا……حتی کہ جن کی فکروں کے راستے سے پردے اٹھ گئے انہوں نے گوشہ نشینی پر رشک کیااور خلوت میں ذاتِ باری تعالیٰ کے انوار و تجلیات کے مشاہدہ سے مانوس ہوگئے……پس انہوں نے انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں وحشت محسوس کی اگرچہ وہ اخص الخاص ہی کیوں نہ ہوں……درودو سلام ہو ہمارے پیارے آقا،تمام انبیا کے سردار اور تمام انبیامیں سب سے بہترذات حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے، احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کے آل و اصحاب پر جو مخلوق کے سردارو امام ہیں۔

خلوت نشینی اور مل جل کر رہنے اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دینے کے معاملے میں لوگوں(عارفین)کا کثیر اختلاف ہے……باوجود اس کے کہ ان میں سے ہر ایک میں کچھ خامیاں ہیں جو نفرت کا موجب ہیں اور کچھ فوائد بھی ہیں جو اس کی طرف داعی ہیں……اکثر عابدین و زاہدین کا میلان خلوت نشینی اختیار کرنے اور اسے اختلاط(مل جل کر رہنے) پر ترجیح دینے کی طرف رہاہے……ہم نےصحبت کے باب میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے ،ان کا آپس میں بھائی چارہ قائم کرنے اور ان کے ساتھ الفت و محبت کرنے کی جو فضیلت بیان کی ہے وہ اُس کے خلاف ہے جس کی طرف اکثر کا میلان رہایعنی گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مل جل کر رہنے سے وحشت محسوس کرنا……لہٰذا اس بارے میں حق سے پردہ اٹھانا لازم ہو گیا۔چنانچہ،اس کی وضاحت و تفصیل ہم دو ابواب میں بیان کریں گے:

(1)…مختلف مذاہب اور ان کے دلائل کابیان۔(2)…فوائداورخامیوں کی روشنی میں حق سے پردہ اٹھانے کابیان۔

باب نمبر1: مختلف مذاہب کے اقوال اوران کےدلائل کا بیان

(یہ تین فصلوں پر مشتمل ہے)

گوشہ نشینی اختیار کرنے اور اسے ترجیح دینے والے:

جہاں تک مذاہب کا تعلُّق ہے تو اس میں لوگوں کا اتنا اختلاف ہے کہ یہ اختلاف تابعین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں بھی ظاہر ہوا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان بن سعید ثَوری، حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہَم بَلْخِی ،حضرت سیِّدُنا داؤد بن نصیر طائی، حضرت سیِّدُناقاضی فُضَیْل بن عِیاض تَمِیْمِی ، حضرت سیِّدُناسلیمان خَوَّاص، حضرت سیِّدُنا یوسُف بن اَسباط شَیْبانی،حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بن قتادہ مَرعَشِی،حضرت سیِّدُنابِشر بن حارِث حافی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ، ان حضرات نے گوشہ نشینی اختیار کی اور اسے لوگوں کے ساتھ مل جل کررہنے پر ترجیح دی۔

لوگوں کے ساتھ میل جول اختیار کرنے والے:

اکثر تابعین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے نزدیک لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا،جان پہچان اوردوستیاں بڑھانا، مؤمنین کے ساتھ محبت و الفت رکھنا،دینی معاملات میں ان سے مدد چاہنا اور نیکی و تقویٰ پر تعاوُن کرنا مستحب ہے۔جیسےحضرت سیِّدُناسعید بن مُسَیَّب،حضرت سیِّدُناعامر بن شراحیل شَعْبی،حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ،حضرت سیِّدُنا ہِشام بن عُروَہ بن زُبَیْر، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن شُبْرُمَہ، حضرت سیِّدُناقاضی شُرَیْح بن حَرْث ، حضرت سیِّدُناشَریک بن عبدُاللہ ، حضرت سیِّدُناسُفیان بن عُیَیْنَہ ہِلالی،حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن مبارَک مَروزی، حضرت سیِّدُناامام محمد بن اِدْرِیس شافعی اورحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ۔ نیزمُتَاَخِرین کی ایک جماعت اس طرف ہے کہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا افضل ہے۔

علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے جو کلمات منقول ہیں، ان کی دو اقسام ہیں:(۱)…کلمات مطلقہ:وہ کلمات جو دو میں سے ایک رائے کی طرف میلان پر دلالت کرتے ہیں۔(۲)…کلمات مقرونہ:ایسے کلمات جن میں میلان کی علت کی طرف اشارہ پایا جاتاہے۔چنانچہ،

پہلے ہم مطلق کلمات کو نقل کرتے ہیں تاکہ اس بارے میں مذاہب کو بیان کریں اور وہ کلمات کہ جو علت کے ذکر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں انہیں ہم فوائد اور خامیاں بیان کرتے وقت ذکر کرینگے۔

پہلی فصل: گوشہ نشینی کی طرف مائل حضرات کے اقوال

خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’ خُذُوْابِحَظِّکُمْ مِّنَ الْعُزْلَۃ یعنی گوشہ نشینی سے اپنا حصہ لو۔‘‘

حضرت سیِّدُنا امام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نےفرمایا:’’ اَلْعُزْلَۃُ عِبَادَۃٌ یعنی گوشہ نشینی عبادت ہے۔‘‘

حضرت سیِّدُناقاضی فُضَیْل بن عِیاض تَمِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نےفرمایا:’’ کَفٰی بِاللہِ مُحِبًا وَّ بِالْقُرْاٰنِ مُوْنِسًا وَّ بِالْمَوْتِ وَاعِظًا یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ محب ہونے،قرآن کریم مونس ہونے اور موت واعظ ہونے کے لئے کافی ہے۔‘‘

کہا گیاہے کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو دوست بناؤ اور لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دو۔‘‘

دنیاسے روزہ:

حضرت سیِّدُناابوربیع زاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد نے حضرت سیِّدُناداؤ بن نصیرطائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی:’’مجھے کچھ نصیحت فرمائیے!‘توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:’’دنیا سے روزہ رکھو(یعنی گوشہ نشینی اختیار کرو) اور آخرت میں افطار کرو اور لوگوں سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘

حکمت بھرے پانچ کلمات:

نواسۂ رسول جگر گوشۂ بتول حضر ت سیِّدُناامام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نےفرمایا:’’کچھ کلمات ہیں جنہیں میں نے تورات شریف سے یاد کیا ہے(وہ یہ ہیں):(۱)…ابن آدم نے قناعت اپنائی تو مستغنی(مالدار)ہو گیا(۲)…لوگوں سے دوری اختیار کی تو (اس کا دین)سلامت ہوگیا(۳)…خواہشات و لذات کو ترک کیا تو آزاد ہوگیا(۴)…حسد کو تَرَک کیا تو صاحبِ مُروَّت بن گیا اور(۵)…تھوڑاساصبر کیا تو زیادہ نَفْع پایا۔‘‘

حکمت کے10 اَجزا:

حضرت سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْد مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا:’’ہمیں خبر ملی ہے کہ بے شک حکمت کے10 اجزا ہیں، نو حصے خاموشی میں اور ایک حصہ لوگوں سے دور رہنے(یعنی گوشہ نشینی) میں ہے۔‘‘

حضرت سیِّدُنایوسُف بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناعلی بن بَکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے کہا:’’آپ خلوت و تنہائی پر بڑے صابر ہیں۔‘‘اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے گھر میں خلوت کو معمول بنا رکھا تھا۔ جواباً فرمایا:’’ جب میں جوان تھا تو اس سے بھی زیادہ صبر کرتا تھا، اس طرح کہ لوگوں کے ساتھ بیٹھتا تو تھا مگر ان سے کلام نہیں کرتا تھا۔‘‘

حضرت سیِّدُناسفیان بن سعید ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا:’’ ہٰذَا وَقْتُ السُّکُوْتِ وَ مُلَازَمَۃِ الْبُیُوْت یعنی یہ وقت خاموش رہنے اور گھروں میں گوشہ نشین رہنے کاہے۔‘‘

خاموش طبیعت علوی نوجوان:

ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:ایک دفعہ میں کشتی میں سوارتھا،ہمارے ساتھ ایک علوی نوجوان بھی تھا۔وہ سات دن تک ہمارے ساتھ رہا لیکن اس نے ہم سے کسی قسم کی گفتگو نہ کی، ہم نے اس نوجوان سے کہا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اور آپ کو سات دن سے ایک ساتھ رکھا ہے،لیکن(کیا وجہ ہے کہ) آپ نہ تو ہم سے میل جول رکھتے ہیں اور نہ ہی گفتگو کرتے ہیں۔‘‘تواس نے یہ اشعار پڑھے:

قَلِیْلُ الْہَمِّ لَا وَلَدٌ یَّمُوْتُ وَ لَا اَمْرٌ یُّحَاذِرُہُ یَفُوْت

قَضٰی وَطْرَ الصَّبَا وَ اَفَادَ عِلْمًا فَغَایَتُہُ التَّفَرُّدُ وَ السُّکُوْت

ترجمہ:(۱)…فکر کم ہے، نہ تو بیٹے کے مرنے کا غم ہے اور نہ ہی کسی اور امر کے فوت ہونے کا ڈر۔

(۲)… بچپن کا شوق پورا کیا اور علم حاصل کیا پس اس کی انتہا تنہائی اور خاموشی ہے۔

حضرت سیِّدُناابراہیم بن یزید نَخَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے ایک گوشہ نشین سے فرمایا:’’پہلے علم حاصل کرو پھر گوشہ نشینی اختیار کرو۔‘‘

اسی طرح کا ایک قول حضرت سیِّدُنا رَبِیع بن خَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بھی منقول ہے۔

منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناامام مالک بن انس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جنازوں میں حاضر ہوتے ، مریضوں کی عیادت کرتے اور دوستوں کے حقوق ادا کرتے تھے،پھرایک ایک کر کے تمام کام چھوڑ دیے(اور گوشہ نشین ہوگئے)،جب آپ سے اس بارے میں کوئی پوچھتا توفرماتے:’’ ہر بات کی وجہ بیان کرنا بندے کے لئےممکن نہیں ہے۔‘‘

فارغ وقت ختم ہوگیا:

ثانی عمرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سے عر ض کی گئی:’’اگر آپ ہمارے لئے کچھ فارغ وقت نکالیں تو کیا ہی اچھا ہو؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’ فارغ وقت ختم ہو گیا اب توفارغ وقت بارگاہِ الٰہی میں ہی ملے گا(یہاں فراغت سے فارغ البال اور فارغ الوقت مرادہے)۔‘‘

حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب نےفرمایا:’’ایسے شخص کا مجھ پر احسان ہو گا جو مجھ سے ملے اور سلام نہ کرے اور جب میں بیمار ہو جاؤں تو میری عیادت نہ کرے ۔‘‘

اے ربیع!تمہیں نصیحت ہوگئی:

حضرت سیِّدُناابو سلیمان عبدالرحمن بن احمد دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ربیع بن خَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک پتھر آپ کی پیشانی پر لگا جس کی وجہ سے آپ زخمی ہو گئےاور پیشانی سے خون بہنے لگا،آپ خون صاف کرتے ہوئے اپنے آپ سے کہنے لگے:’’اے ربیع!تمیں نصیحت ہو گئی۔‘‘چنانچہ،اٹھے اور گھر میں داخل ہوگئے، اس کے بعد آپ اپنے گھر کے دروازے پر کبھی نہیں بیٹھے،یہاں تک کہ آپ کا جنازہ ہی گھر سے نکالا گیا۔

حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص اور حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مقامِ عقیق میں واقع اپنے گھروں میں گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی،یہ دونوں حضرات جمعہ اور دوسرے کام وغیرہ کے لئے بھی مدینۂ منورہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا نہیں آتے تھے یہاں تک کہ ان دونوں ہستیوں کا انتقال مقام عقیق میں ہی ہوا۔

حضرت سیِّدُنایوسف بن اسباط شیبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نےفرمایا:میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کوفرماتے سنا:’’ وَاللہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ لَقَدْ حَلَّتِ الْعُزْلَۃُ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں!بے شک گوشہ نشینی حلال (یعنی جائز)ہو گئی ہے۔‘‘

40 sur 646
Le texte arabe
كتاب آداب العزلة وهو الكتاب السادس من ربع العادات من كتب إحياء علوم الدين

Texte du corpusOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472pris le 2026-10-21

Ceci est le texte arabe de l’Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn d’al-Ghazālī tel que le corpus OpenITI le donne, d’après la copie de Shamela de l’édition Dār al-Maʿrifa. Personne ne l’a comparé au livre imprimé ni à un manuscrit, et aucun savant ne l’a relu. Le corpus signale que, dans certaines pages, une partie du texte manque et que les notes de l’éditeur sont mêlées au texte ; l’un et l’autre sont montrés tels quels. Les pages de l’édition imprimée sont marquées là où elles finissent. Les traductions sont celles de leurs traducteurs ; chacune a été lue dans la copie nommée avec elle et est montrée comme un texte à part sous chaque livre, avec ses propres titres : aucune n’est placée ligne à ligne en regard de l’arabe, l’anglais de Karim abrège le livre comme son traducteur le dit, et chacune garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl n’a rien traduit, n’a vérifié aucune traduction sur l’arabe, et aucun savant n’en a relu une.