Aller au contenu
Livre 12 · Iḥyā’ ʿulūm al-dīn
Livre 12 · اردو

آدابِ نکاح کا بیان

Cette traduction est celle de son traducteur, non celle de Sabīl. Elle est montrée telle que sa source la donne, comme un texte à part sous chaque livre, avec les titres du traducteur : elle ne se tient pas ligne à ligne en regard de l’arabe et garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl ne l’a pas vérifiée sur l’arabe, et aucun savant ne l’a relue.

Traduit par Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںLu dans dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)pris le 2026-10-22

Ce que la source en dit : The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جس کی عجیب صنعتوں میں وہم وگمان کے تیر نہیں چل سکتے، اس کے عجائبات کی ابتدا سے ہی عقل لوٹ آتی اور حیران و ششدررہ جاتی ہے۔ تمام جہانوں پر اس کی لطیف نعمتوں کی بارش مسلسل برستی رہتی ہے اور تمام مخلوق خواہی نخواہی اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہی ہے۔ اس کی انوکھی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے انسان کو پانی(نطفہ) سے پیدا فرمایا، پھر اس کے نسبی اور سسرالی رشتے بنائے اور مخلوق پر شہوت کو سوا ر کرکے اسے نکاح پر مجبور کر دیا اور اس کے ذریعے ان کی نسلوں کو زبردستی باقی رکھا، پھر نسبوں کو عظمت عطا فرما کر قدرومنزلت والا بنایا، اس کے سبب زنا کو حرام قرار دیا، اس کی شدید مذمت فرمائی اور اس کے ارتکاب کو بہت بڑا جرم قرار دیاجبکہ نکاح کی ترغیب دلائی اور اسے مستحب قرار دیا۔

پاک ہے وہ ذات جس نے بندوں پر موت کو لازم کرکےان کے غرور وتکبر کو ختم کرنے کا سبب بنایا۔ رحموں کی زمین پر نطفوں کا بیج پھیلا کر مخلوق کو پیدا کیا، پھر موت کے ذریعے اسے ختم کر دیااور اس بات پر آگاہ فرمایا کہ مخلوق کو جو کچھ بھی حاصل ہوتا ہے خواہ وہ نفع و نقصان، خیر وشر، تنگی و آسانی، روکنا اور جاری رکھنا ہو سب کچھ تقدیرِالٰہی سے ہوتا ہے۔

ہمارے بشیر و نذیر آقا و مولیٰ حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کی آل و اصحاب پر بے شمار و بے انتہادرود وسلام ہو۔

نکاح دین پر مددگار، شیاطین کو ذلیل و رسوا کرنے والا اور دشمن خدا کے مقابلے میں مضبوط قلعہ اور کثرتِ اُمَّت کا سبب ہے جس کے ذریعے سیِّدُالْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام انبیا(اور امتوں) کے سامنے فخر فرمائیں گے، لہٰذا اس کے اسباب میں غوروفکر کرنا، اس کی سنتوں اور آداب کی رعایت رکھنا، اس کے مقصد وضرورت کی وضاحت کرنا اور اس کی فصلوں اور ابواب کو بیان کرنا بہت ضروری ہے۔چنانچہ، نکاح کے اہم احکام تین ابواب میں بیان کئے جائیں گے:

(۱)…نکاح کی ترغیب اور اس سے روکنے کا بیان(۲)…ان آداب کا بیان جن کی رعایت رکھنا عقد و عاقدین کے مابین ضروری ہے اور(۳)…عقد سے لے کر جدائی تک آپس میں رہنے کے آداب۔

سنن الترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی التانی والعجلة ، ۳ / ۴۰۷، الحديث : ۲۰۱۹

مکارم الاخلاق للخرائطی ، باب مايستحب ان يشيع الضيف الی باب الدار ، ۱ / ۳۴۰، الحديث : ۳۲۳

المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندالسيدة عائشة ، ۹ / ۵۵۵، الحديث : ۲۵۵۹۴

صحيح البخاری ، کتاب الادب ، باب اکرام الضيف وخدمته اياه بنفسه ، ۴ / ۱۳۶، الحديث : ۶۱۳۵

باب نمبر1: نکاح کی رغبت اور اس سے روکنے کا بیان

(یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے)

نکاح افضل ہے یا گوشہ نشینی؟

نکاح کی افضلیت کے بارے میں علما کا اختلاف ہے۔ بعض نے مبالغہ کرتے ہوئے اسےعبادت کے لئے گوشہ نشینی سے بھی افضل قرار دیا ہے جبکہ بعض نے اس کی ا فضلیت کو تو تسلیم کیا ہے لیکن گوشہ نشینی کو اس پر مقدم قرار دیا ہےجب تک کہ نفس نکاح کا اس قدر خواہش مند نہ ہو کہ طبیعت میں ہیجان پیدا ہو اور جماع کی رغبت ہو۔ بعض علما نے کہا ہے کہ’’پہلے زمانے میں اگرچہ نکاح کرنا افضل تھا لیکن ہمارے زمانے(1 )میں نکاح نہ کرناافضل ہے اس لئے کہ پہلے کمائی ناجائز نہیں ہوتی تھی اور عورتیں برے اخلاق والی نہ تھیں(جبکہ اِس وقت حالات مختلف ہیں)۔‘‘ (2 )چنانچہ،اوّلاً ہم نکاح کرنے اورنہ کرنے کے بارے میں(آیات و)روایات ذکر کریں گے،پھر نکاح کے فوائد ونقصانات بیان کریں گے تاکہ جو اس کے نقصانات سے بچ سکے اس کے حق میں نکاح کرنے اور جو نہ بچ سکے اس کے حق میں نکاح چھوڑنے کی فضیلت واضح ہو جائے۔

پہلی فصل: نکاح کی رغبت دلانا

نکاح کی ترغیب پر مشتمل 4فرامین باری تعالٰی:

(1)…

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ ( پ ۱۸، النور :۳۲)

ترجمۂ کنز الایمان :اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں۔

اس آیتِ مقدسہ میں نکاح کا حکم ہے۔

(2)…

فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ ( پ ۲، البقرة :۲۳۲)

ترجمۂ کنز الایمان :تو اے عورتوں کے والیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں۔

اس آیتِ طیبہ میں نکاح سے روکنے سے منع کیا گیا ہے۔

(3)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رُسُل عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ- ( پ ۱۳، الرعد :۳۸)

ترجمۂ کنز الایمان :اور بے شک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں اور بچے کئے۔

اس آیتِ مبارکہ میں احسان جتانے اور اظہارِ فضل کابیان فرمایا۔

(4)…اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی دعا پر مقام مدح میں ارشاد فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ ( پ ۱۹، الفرقان :۷۴)

ترجمۂ کنز الایمان :اوروہ جوعرض کرتےہیں اے ہمارے رب ہمیں دے ہماری بیبیوں اورہماری اولادسے آنکھوں کی ٹھنڈک۔

منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں صرف ان انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا ذکرفرمایا جو اہل و عیال والے ہیں۔علمائے کرام فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنایحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے بھی نکاح فرمایا تھا

لیکن جماع نہیں کیا۔اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے نکاح کی فضیلت پانے اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے طریقے کو جاری رکھنے کی نیت سے نکاح کیا تھا۔ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ پریشان نظری سے بچنے کے لئے نکاح فرمایا تھا۔ جہاں تک حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں مروی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام قربِ قیامت میں جب زمین پر نزول فرمائیں گے تو نکاح کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔

نکاح کی ترغیب پر مشتمل 11 احادیثِ مبارکہ:

(1)… اَلنِّکَاحُ سُنَّتِیْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَقَدْ رَغِبَ عَنِّیْ یعنی نکاح میری سنت ہے تو جس نے میری سنت سے منہ موڑا اس نے مجھ سے روگردانی کی۔(3 )

(2)… اَلنِّکَاحُ سُنَّتِیْ فَمَنْ اَحَبَّ فِطْرَتِیْ فَلْیَسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ یعنی نکاح میری سنت ہے تو جو شخص میری فطرت(اسلام) سے محبت کرتا ہے وہ میری سنت کو اپنائے۔(4 )

(3)… تَنَاکَحُوْا تَکْثُرُوْا فَاِنِّیْ اُبَاہِیْ بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی بِالسَّقْطِ یعنی نکاح کرکے اولاد کی کثرت کرو کہ میں قیامت کے دن تمہارے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا حتی کہ نامکمل پیدا ہونے والے بچے پر بھی۔(5 )

(4)… مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَاِنَّ مِنْ سُنَّتِی النِّکَاحُ فَمَنْ اَحَبَّنِیْ فَلْیَسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ یعنی جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں(6 ) اور بے شک نکاح بھی میری سنت ہے تو جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ میری سنت پر عمل کرے۔(7 )

(5)… مَنْ تَرَکَ التَّزْوِیْجَ مَخَافَۃَ الْعَیْلَۃِ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جس نے مفلسی کے خوف سے نکاح ترک کردیا وہ ہم میں سے نہیں۔(8)

اس حدیث مبارکہ میں نکاح نہ کرنے کی وجہ یعنی مفلسی کے خوف کو برا کہا گیاہے نہ کہ نکاح نہ کرنے کو۔

(6)… مَنْ کَانَ ذَاطَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ یعنی تم میں سے جو مال و دولت میں وسعت رکھتا ہو اسے چاہئے کہ نکاح کرے۔(9 )

40 sur 1257
Le texte arabe
كتاب آداب النكاح وهو الكتاب الثاني من ربع العادات من كتاب إحياء علوم الدين

Texte du corpusOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472pris le 2026-10-21

Ceci est le texte arabe de l’Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn d’al-Ghazālī tel que le corpus OpenITI le donne, d’après la copie de Shamela de l’édition Dār al-Maʿrifa. Personne ne l’a comparé au livre imprimé ni à un manuscrit, et aucun savant ne l’a relu. Le corpus signale que, dans certaines pages, une partie du texte manque et que les notes de l’éditeur sont mêlées au texte ; l’un et l’autre sont montrés tels quels. Les pages de l’édition imprimée sont marquées là où elles finissent. Les traductions sont celles de leurs traducteurs ; chacune a été lue dans la copie nommée avec elle et est montrée comme un texte à part sous chaque livre, avec ses propres titres : aucune n’est placée ligne à ligne en regard de l’arabe, l’anglais de Karim abrège le livre comme son traducteur le dit, et chacune garde les défauts de la copie d’où elle a été lue. Sabīl n’a rien traduit, n’a vérifié aucune traduction sur l’arabe, et aucun savant n’en a relu une.