پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
سورهٔ ۹

At-Tawba

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۵۸–۵۹

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِى ٱلصَّدَقَـٰتِ فَإِنْ أُعْطُوا۟ مِنْهَا رَضُوا۟ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا۟ مِنْهَآ إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ ۵۸ وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا۟ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤْتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ ۵۹

اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات میں سوا گر دیے جائیں اس میں سے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر نہ دیے جائیں وہ اس میں سے تو جھٹ ناراض ہوجاتے ہیں(58) اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اوراس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہمارے لیے اللہ، عنقریب دے گا ہمیں اللہ اپنے فضل سے اوراس کا رسول بھی، بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں(59)

[58] یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انھیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ ﴿ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡهَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ يُعۡطَوۡا مِنۡهَاۤ اِذَا هُمۡ يَسۡخَطُوۡنَ ﴾ ’’پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔‘‘حالانکہ بندے کے لیے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘ ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوں جو میں لے کر آیا ہوں ۔‘‘( شرح السنۃ، حدیث: 104)

[59] یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے‘‘ یعنی انھیں کم یا زیادہ جو کچھ بھی دیا ہے ﴿ وَقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے‘‘ اور اس نے جو کچھ ہماری قسمت میں رکھا ہے ہم اس پر راضی ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی امید رکھیں ﴿ سَيُؤۡتِيۡنَا اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَرَسُوۡلُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰؔغِبُوۡنَ ﴾ ’’وہ اللہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول، بے شک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں ‘‘ یعنی اپنی منفعتوں کے حصول اور نقصانات سے بچنے کے لیے نہایت عاجزی سے اس سے دعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: