Al-Inshiqaaq
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ ۱۶ وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ۱۷ وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ ۱۸ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ۱۹ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۲۰ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ ٱلْقُرْءَانُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ ۲۱ بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُكَذِّبُونَ ۲۲ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ ۲۳ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ۲۴ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۭ ۲۵
پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25)
[19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔
[24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔
[25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔