پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qiyaama
سورهٔ ۷۵

Al-Qiyaama

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۶–۱۹

لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ ۱۶ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ ۱۷ فَإِذَا قَرَأْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ ۱۸ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ۱۹

نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19)

[19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔‘‘ یہاں فرمایا:﴿ لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖ﴾ ’’وحی کے پڑھنے کے لیے اپنے زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کر لیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کر دے گا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ﴾ ’’اس كا جمع كرنا اور (آپ كی زبان سے) پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے، اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہےتو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کر دی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔ ﴿ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗ﴾ یعنی جبریل uقرآن کی قراء ت مکمل کر لیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے، تب اس وقت جبریل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجیے اور قرآن کو پڑھیے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾ یعنی اس کے معانی کا بیان ہمارے ذمے ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی، دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہٰذا اس کے بعد جب جبریل uآپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتےا ور جب جبریلu قر اء ت سے فارغ ہو جاتے تو پھر آپ پڑھتے۔اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ کو شروع کیا ہو، اس سے معلم کے فارغ ہونے سے پہلےطالب علم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جب وہ اس مسئلہ سے فارغ ہو جائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے۔اور اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو، تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کر سکے۔ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔