پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Fath
سورهٔ ۴۸

Al-Fath

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۲۷–۲۸

لَّقَدْ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءْيَا بِٱلْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا۟ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا ۲۷ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا ۲۸

البتہ تحقیق سچی خبر دی اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں ساتھ حق کے، کہ ضرور داخل ہو گے تم مسجد حرام میں، اگر چاہا اللہ نے، امن سے، منڈاتے ہوئے سر اپنے اور بال کتراتے ہوئے، نہ ڈرتے ہو گے تم (کسی سے بھی) پس جان لی اللہ نے وہ بات جو نہیں جانی تم نے، سو کر دی اس نے پہلے اس سے ایک فتح جلد ہی (27) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے، تاکہ غالب کرے وہ اس کو اوپر سب دینوں کے اور کافی ہے اللہ گواہ (28)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ان باتوں کا رسول اللہﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا ، چنانچہ انھوں نے آپ سے عرض کیا ’’کیاآپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئیں گے اور طواف کریں گے؟‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لیے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ..... حدیث: 2732,2731)یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا ضروری امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جا سکتی ﴿ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ١ۙ مُحَلِّقِيۡنَ رُءُوۡسَكُمۡ وَمُقَصِّرِيۡنَ﴾یعنی تم اس حال میں مسجدِ حرام ميں داخل ہو گے جو اس محترم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے، کہ تم سر منڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہو گے ان کی تکمیل کر رہے ہو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہو گا۔﴿ فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡافَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ﴾ ’’جو تمھیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے‘‘ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے﴿فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾ ’’نزدیک کی فتح‘‘

[28] چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہو گئی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى﴾ ’’وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔‘‘ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر و شر کے تمام راستے واضح کر دیتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ﴾ اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا، جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ﴾ تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ﴿ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ ’’تمام ادیان پر‘‘ یعنی حجت و برہان کے ذریعے سے اور یہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔