پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Jaathiya
سورهٔ ۴۵

Al-Jaathiya

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۶–۱۷

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَفَضَّلْنَـٰهُمْ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ ۱۶ وَءَاتَيْنَـٰهُم بَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْأَمْرِ ۖ فَمَا ٱخْتَلَفُوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۱۷

اور البتہ تحقیق دی ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت اور رزق دیا ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے اور فضیلت دی ہم نے ان کو اوپر جہانوں کے (16) اور دیں ہم نے ان کو واضح دلیلیں دین کی بابت، پس نہیں اختلاف کیا انھوں نے مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم، محض ضد سے آپس کی، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے، ان چیزوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (17)

[16] ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انھیں ﴿الۡكِتٰبَ﴾یعنی تورات و انجیل سے سرفراز کیا۔ اور ﴿الۡحُكۡمُ﴾ ہم نے انھیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور ﴿النُّبُوَّةَ﴾نبوت عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ ابراہیمu کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔﴿وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ اور ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من و سلویٰ نازل کیا۔ ﴿وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انھیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمدیہ خارج ہے کیونکہ امت محمدیہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ آیت کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے سوا دیگر امتوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور انھیں دیگر قوموں سے ممیز کیا۔نیز وہ فضائل جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو فوقیت حاصل ہے ، مثلاً: کتاب کا عطا کیا جانا، حکومت اور نبوت وغیرہ جیسے دیگر اوصاف تو وہ اس امت کو بھی حاصل ہیں ۔اس کے علاوہ اس امت کے بہت سے فضائل ان پر مستزاد ہیں، پھر بنی اسرائیل کی شریعت امت محمدیہ کی شریعت کا ایک جز ہے۔ یہ کتاب عظیم، گزشتہ تمام کتابوں پر نگہبان ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ گزشتہ تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔

[17]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے﴿بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’دلائل۔‘‘ جو حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں۔ ﴿مِّنَ الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی امر قدری سے جو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچایا ہے۔ یہ آیات وہ معجزات ہیں جن کا انھوں نے موسیٰu کے ذریعے سے مشاہدہ کیا، یہ ان سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بہترین طریقے سے ان کو قائم رکھیں، حق پر مجتمع رہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے واضح کیا ہے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس حق کے ساتھ اس سے متضاد معاملہ کیا جو ان پر واجب تھا۔ پس جس معاملے میں ان کو مجتمع رہنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں انھوں نے اختلاف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ یعنی وہ علم جو عدم اختلاف کا موجب تھا صرف ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی نے انھیں اس اختلاف پر آمادہ کیا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ پس وہ حق شعاروں کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دے گا جنھوں نے باطل کو اختیار کیا اور جن کو خواہش نفس نے اختلاف پر آمادہ کیا۔