پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Az-Zumar
سورهٔ ۳۹

Az-Zumar

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیهٔ ۹

أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًا وَقَآئِمًا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِۦ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ۹

کیا (یہ برابر ہو سکتا ہے اس کے) جو شخص کہ وہ عبادت کرنے والا ہو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے اور کھڑے، ڈرتا ہے آخرت سے اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی رحمت کی، کہہ دیجیے! کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو نہیں علم رکھتے؟ بلاشبہ نصیحت تو پکڑتے ہیں عقل والے ہی(9)

[9]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور نافرمانی کرنے والے کے درمیان اور عالم اور جاہل کے مابین مقابلہ ہے۔ نیز اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جن کا تضاد عقل انسانی میں راسخ اور ان کے درمیان تفاوت یقینی طور پر معلوم ہے۔ پس اپنے رب کی اطاعت سے روگرداں اور خواہشات کی پیروی کرنے والا اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا ہے جو افضل اوقات یعنی رات کے اوقات میں بہترین عبادت، یعنی نماز کے ذریعے سے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین اعمال کو کثرت کے ساتھ بجالانے کے وصف سے موصوف کیا، پھر اسے خوف اور امید کی صفات سے موصوف کیا، نیز ذکر فرمایا کہ خوف ان گناہوں کے بارے میں آخرت کے عذاب سے تعلق رکھتا ہے، جو اس سے سرزد ہو چکے ہیں اور امید کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی عمل سے موصوف فرمایا۔﴿قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کیا وہ برابر ہوسکتے ہیں جو جانتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب، اس کے دین شرعی، دین جزائی اور دین کے اسرار اور حکمتوں کا علم رکھتے ہیں ﴿وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور جو ان مذکورہ امور کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے؟ یہ دونوں قسم کے لوگ کبھی برابر نہیں ہوتے جس طرح رات اور دن، روشنی اور اندھیرا اور آگ اور پانی برابر نہیں ہوتے۔ ﴿اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ ﴾ جب نصیحت کی جاتی ہے تو صرف وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں ﴿اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ جو صاف ستھری اور تیز عقل کے مالک ہیں۔ پس یہی لوگ اعلیٰ کو ادنیٰ پر مقدم رکھتے ہیں، چنانچہ یہ لوگ علم کو جہالت پر اور اللہ کی اطاعت کو اس کی مخالفت پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کی عقل ان کو عواقب میں غوروفکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے برعکس بے عقل شخص اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔