پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · As-Sajda
سورهٔ ۳۲

As-Sajda

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۲۸–۳۰

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْفَتْحُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ۲۸ قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِيمَـٰنُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ ۲۹ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَٱنتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ ۳۰

اور وہ کہتے ہیں: کب ہو گا یہ فیصلہ، اگر ہو تم سچے؟(28) کہہ دیجیے: دن فیصلے کے نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ایمان لانا ان کا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے(29) پس آپ منہ پھیر لیں ان سے اور انتظار کریں، بلاشبہ وہ بھی منتظر ہیں (30)

[28] یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡفَتۡحُ ﴾ ’’اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟‘‘ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔

[29]﴿قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔

[30]﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس آپ ان سے اعراض کریں۔‘‘ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانۡتَظِرۡ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔