پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naml
سورهٔ ۲۷

An-Naml

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۷۳–۷۵

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ۷۳ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ ۷۴ وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍ مُّبِينٍ ۷۵

اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (73) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (74) اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز آسمان او رزمین میں مگر وہ ہے کتاب واضح میں (75)

[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جود وسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہو کر نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کر دیتے ہیں ۔

[74]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور بلاشبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں ، تمھارا رب ان کو جانتا ہے۔‘‘ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے ﴿ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔‘‘ اس لیے انھیں اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔

[75]﴿وَمَا مِنۡ غَآىِٕبَةٍ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھپی ہوئی چیز اور عالم علوی اور عالم سفلی کا کوئی بھید ایسا نہیں جو ﴿ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں نہ ہو۔‘‘ اس کتاب نے ان تمام امور و حوادث کا احاطہ کر رکھا ہے جو اب تک وقوع میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک واقع ہوں گے۔ پس جو بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ وقوع میں آتا ہے وہ اس کے مطابق ہوتا ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے۔