پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Furqaan
سورهٔ ۲۵

Al-Furqaan

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۳۵–۴۰

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَهُۥٓ أَخَاهُ هَـٰرُونَ وَزِيرًا ۳۵ فَقُلْنَا ٱذْهَبَآ إِلَى ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا فَدَمَّرْنَـٰهُمْ تَدْمِيرًا ۳۶ وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا۟ ٱلرُّسُلَ أَغْرَقْنَـٰهُمْ وَجَعَلْنَـٰهُمْ لِلنَّاسِ ءَايَةً ۖ وَأَعْتَدْنَا لِلظَّـٰلِمِينَ عَذَابًا أَلِيمًا ۳۷ وَعَادًا وَثَمُودَا۟ وَأَصْحَـٰبَ ٱلرَّسِّ وَقُرُونًۢا بَيْنَ ذَٰلِكَ كَثِيرًا ۳۸ وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ ٱلْأَمْثَـٰلَ ۖ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا ۳۹ وَلَقَدْ أَتَوْا۟ عَلَى ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِىٓ أُمْطِرَتْ مَطَرَ ٱلسَّوْءِ ۚ أَفَلَمْ يَكُونُوا۟ يَرَوْنَهَا ۚ بَلْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ نُشُورًا ۴۰

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)

[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔