Al-Hajj
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَـٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ ٱلْأَنْعَـٰمُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ فَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلرِّجْسَ مِنَ ٱلْأَوْثَـٰنِ وَٱجْتَنِبُوا۟ قَوْلَ ٱلزُّورِ ۳۰ حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِۦ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍ سَحِيقٍ ۳۱
(حکم) یہی ہے اور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی حرمتوں کی تو وہ بہت بہتر ہے اس کے لیے نزدیک اس کے رب کےاورحلال کیے گئے ہیں تمھارے لیے چوپائے سوائے ان کے جو پڑھے جاتے ہیں تم پر پس بچو تم ناپاکی سے بتوں کی اور بچو تم بات جھوٹی سے (30) یکسو ہو کر اللہ ہی کے لیے اس حال میں کہ نہ ہو شریک ٹھہرانے والے اس کے ساتھ اور جو کوئی شرک کرے اللہ کے ساتھ تو گویا وہ گرا آسمان سے اور اچک لے جائیں اسے پرندے یا (لے جا کر) گرا دے اسے ہوا کسی دور کے مکان میں (31)
[30]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی وہ احکام جن کا ہم تمھارے سامنے ذکر کر چکے ہیں ، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بے پایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لیے بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً: تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور اور وہ تمام عبادات جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ پس ان کی تعظیم یہ ہے کہ دل سے ان کی توقیر اور ان کے ساتھ محبت کی جائے اور کسی تحقیر، سستی اور بے دلی کے بغیر ان میں عبودیت کی تکمیل کی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی نوازشات کا ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے چوپایوں میں سے مویشی حلال کر دیے، مثلاً:اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ اور ان کو ان جملہ مناسک میں مشروع کیا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ پس ان دونوں پہلوؤں سے ان میں اللہ تعالیٰ کی عنایت بہت عظیم ہو گئی ہے۔ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سوائے ان جانوروں کے جن کی تلاوت تم پر کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جن کی تحریم قرآن مجید میں بایں الفاظ ہے۔ ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ١۫ وَمَا ذُبِـحَ عَلَى النُّصُبِ﴾(المائدۃ:5؍3) ’’حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور جس کو درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم مرنے سے پہلے ذبح کر لو اور وہ جانور جن کو استھانوں پر ذبح کیا جائے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ اس نے ان چیزوں کو ان کے تزکیہ کے لیے اور شرک اور جھوٹی بات سے تطہیر کی خاطر حرام قرار دیا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ ﴾ یعنی خبث اور گندگی سے اجتناب کرو۔ ﴿ مِنَ الۡاَوۡثَانِ ﴾ ’’یعنی بتوں سے‘‘ یعنی ہمسروں سے، جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا رکھا ہے، یہ معبودان باطل سب سے بڑی گندگی ہیں ۔ ظاہر ہے یہاں حرفِ جار (من) بیان جنس کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ اکثر مفسرین کی رائے ہے بلکہ یہ تبعیض کے لیے ہے اور (رجس) تمام منہیات محرمات کے لیے عام ہے تب یہ نہی عام ہے اور بتوں کی گندگی سے اجتناب کا حکم خاص ہے، جو حرام شدہ منہیات ہی کا حصہ ہے ﴿ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ ﴾ یعنی تمام حرام شدہ اقوال سے اجتناب کرو کیونکہ یہ سب جھوٹی کلام میں شمار ہوتے ہیں ۔
[31] اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ﴿ حُنَفَآءَؔ لِلّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کے لیے یکسور ہیں یعنی ہر ماسوا سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں ۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔‘‘ اس کی مثال ایسے ہے۔ ﴿ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ جیسے کہ وہ آسمان سے گر پڑا ہو۔ ﴿ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ ﴾ ’’پس پرندوں نے اسے اچک لیا ہو‘‘ نہایت سرعت سے ﴿ اَوۡ تَهۡوِيۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِيۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ ﴾ ’’یا ہوا اسے کہیں دور لے جا کر پھینک دے۔‘‘ یہی حال مشرکین کا ہے۔ پس ایمان آسمان کی مانند محفوظ اور بلند ہے اور جس نے ایمان کو ترک کر دیا وہ اس چیز کی مانند ہے جو آسمان سے گرے اور آفات و بلیات کا شکار ہو جائے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں اور اس کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ مشرک کا یہی حال ہے جب وہ ایمان کو ترک کر دیتا ہے تو شیاطین ہر جانب سے اسے اچک لیتے ہیں ، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اور اس کا دین اور دنیا تباہ کر دیتے ہیں … یا اسے سخت تیز ہوا لے اڑتی ہے اور اسے فضا کے مختلف طبقات میں لیے پھرتی ہے اور اس کے اعضاء کے چیتھڑے بنا کر کہیں دور جا پھینکتی ہے۔