پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Taa-Haa
سورهٔ ۲۰

Taa-Haa

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۰۲–۱۰۴

يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ وَنَحْشُرُ ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا ۱۰۲ يَتَخَـٰفَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا ۱۰۳ نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا ۱۰۴

جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104)

[104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘