پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Baqara
سورهٔ ۲

Al-Baqara

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۱۴–۱۵

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَـٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ ۱۴ ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ ۱۵

اور جب ملتے ہیں وہ ایمان والوں سے تو کہتے ہیں، ایمان لے آئے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں وہ اپنے سرداروں کی طرف تو کہتے ہیں، بے شک ہم تمھارے ساتھ ہیں، بلاشبہ ہم تو صرف استہزا کرنے والے ہیں(14) اللہ استہزا کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں، وہ بھٹکتے پھرتے ہیں(15)

[14] یہ قول ان کی ان باتوں میں سے ہے جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے تھے درآں حالیکہ ان کے دل میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ جب یہ منافقین اہل ایمان کے پاس جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے طریقے پر گامزن ہیں اور ان کے ساتھ ہیں اور جب وہ اپنے شیطان سرداروں یعنی شریر رؤسا سے تنہائی میں ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں ’’ہم تو درحقیقت تمھارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمھارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔‘‘ یہ ہیں ان کے ظاہری اور باطنی احوال۔ بری چال کا وبال اسی پر پڑتا ہے جو یہ چال چلتا ہے۔

[15]﴿اَللّٰهُ يَسۡتَهۡزِئُ بِهِمۡ وَيَمُدُّهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَؔ﴾ ’’اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ استہزا ان کے اس استہزا کی جزا ہے جو وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا یہ ہے کہ وہ ان کے بدبختی کے اعمال اور خبیث احوال کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کر دیتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان پر مسلط نہیں کیا اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہیں۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا یہ ہوگا کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ انھیں ظاہری روشنی عطا کرے گا۔ جب اہل ایمان اس روشنی میں چلیں گے تو منافقین کی روشنی بجھ جائے گی۔ وہ روشنی کے بجھ جانے کے بعد تاریکی میں متحیر کھڑے رہ جائیں گے۔ پس امید کے بعد مایوسی کتنی بری چیز ہے۔ ﴿يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَكُنۡ مَّعَكُمۡ قَالُوۡا بَلٰي وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾(الحدید:57؍14) ’’وہ منافق اہل ایمان کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہ تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم ہمارے بارے میں کسی برے وقت کے منتظر رہے اور تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا۔‘‘ ﴿وَيَمُدُّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ کرتا ہے ﴿فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ﴾ یعنی ان کے فسق و فجور اور کفر میں ﴿يَعۡمَهُوۡنَ﴾ یعنی وہ حیران و سرگرداں ہیں، یہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیقت احوال کو منکشف کرتے ہوئے فرمایا: