پرش به محتوا
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nahl
سورهٔ ۱۶

An-Nahl

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیه‌های ۴۱–۴۲

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ۴۱ ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ۴۲

اور وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے ، البتہ ضرور ٹھکانا دیں گے ہم ان کو دنیا میں اچھااور البتہ اجر آخرت کا تو بہت ہی بڑا ہے، کاش! کہ ہوتے وہ جانتے (41) وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور وہ اوپر اپنے رب کے بھروسہ کرتے ہیں (42)

[41] اللہ تبارک و تعالیٰ ان اہل ایمان کی فضیلت سے آگاہ کرتا ہے جن کو امتحان میں ڈالا گیا تھا، چنانچہ فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا فِي اللّٰهِ ﴾ ’’جنھوں نے اللہ کی رضا کی خاطر (اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) ہجرت کی‘‘ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا ﴾ ’’بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا‘‘ یعنی ان کی قوم کی طرف سے اذیت اور تعذیب کے ذریعے سے ان پر ظلم کیا گیا، کفر اور شرک کی طرف واپس لانے کے لیے ان کو آزمائش اور ابتلاء میں ڈالا گیا۔ پس انھوں نے اپنے وطن اور دوست احباب کو اللہ رحمن کی اطاعت کی خاطر چھوڑ دیا۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ثواب کی دو اقسام بیان کی ہیں :(۱)دنیاوی ثواب : یعنی کشادہ رزق اور خوشحال زندگی۔ اس ثواب کا انھوں نے ہجرت کے بعد اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ انھوں نے اپنے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت حاصل کی، ان کے شہر فتح کیے، انھیں غنیمت میں بہت سا مال ہاتھ آیا جس سے وہ مال دار ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس دنیا ہی میں بھلائی سے نواز دیا۔(۲) اخروی ثواب : ﴿ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت کا اجر‘‘ یعنی وہ ثواب جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے، ﴿ اَكۡبَرُ﴾ ’’(دنیا کے ثواب سے) بہت بڑا ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ١ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠۰۰ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌۙ۰۰خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾(التوبۃ: 9؍20۔22) ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کیا، ان کے لیے اللہ کے ہاں سب سے بڑا درجہ ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ان کا رب انھیں اپنی رحمت، خوشنودی اور ایسی جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ ﴿ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’کاش وہ جانتے۔‘‘ یعنی کاش انھیں اس اجر و ثواب کا علم اور یقین ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور اس کی راہ میں ہجرت کی اور ہجرت کرنے سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔

[42] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا﴾ ’’وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی، اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اذیتوں پر صبر کرتے ہیں ﴿ وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب امور کے نفاذ میں اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح ان کے تمام معاملات سرانجام پاتے ہیں اور ان کے احوال درست رہتے ہیں کیونکہ صبر اور توکل تمام امور کا سرمایہ ہے۔ جب بھی کوئی شخص کسی بھلائی سے محروم ہوتا ہے تو عدم صبر اور اپنے مقصود میں عدم جہد کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل نہیں کرتا۔