Al-A'raaf
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَـٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۸۵
خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام ٭٭
مشہور مؤرخ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ شعیب علیہ السلام میکیل بن یشجر کے لڑکے تھے، ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا۔ یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے راستے میں آتا ہے۔
آیت قرآن «وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ» [28-القصص:23] میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے۔ اس سے مراد ایکہ والے ہیں۔ جیسا کہ ان شاء اللہ بیان کریں گے۔
آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آ چکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑو، لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور، کرو کچھ، یہ خیانت ہے۔ فرمان ہے «وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ» [83-المطففين:1-4] ” ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے «ویل» ہے الخ۔ اللہ اس بدخصلت سے ہر ایک کو بچائے۔ پھر شعیب علیہ السلام کا اور وعظ بیان ہوتا ہے۔ آپ کو بہ سبب فصاحت عبارت اور عمدگی وعظ کے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ علیہ الصلٰوۃ والسلام۔
صفحہ نمبر2989