پرش به محتوا
Tafsir Ibn Kathir · Al-Baqara
سورهٔ ۲

Al-Baqara

این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همان‌گونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز داده‌های QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه می‌دارد. اطلاعات ثبت‌شدهٔ QUL نمی‌گوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی می‌کند، و برای متن مجوزی بیان نمی‌کند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیه‌هایی آمده که دربارهٔ آن‌ها توضیح می‌دهد و این آیه‌ها متن قرآن از Tanzil است، همان‌گونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.

متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشته‌شده در 2026-10-21

آیهٔ ۹۰

بِئْسَمَا ٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ ۚ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ ۹۰

برا ہو حسد کا ٭٭

مطلب یہ ہے کہ ان یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے بدلے تکذیب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بدلے کفر کیا۔ آپ کی نصرت و امداد کے بدلے مخالفت اور دشمنی کی اس وجہ سے اپنے آپ کو جس غضب الٰہی کا سزاوار بنایا وہ بدترین چیز ہے جو بہترین چیز کے بدلے انہوں نے لی اور اس کی وجہ سے سوائے حسد و بغض تکبر و عناد کے اور کچھ نہیں چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قبیلہ میں سے نہ تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں سے تھے اس لیے یہ منہ موڑ کر بیٹھ گئے حالانکہ اللہ پر کوئی حاکم نہیں وہ رسالت کے حقدار کو خوب جانتا ہے وہ اپنا فضل و کرم اپنے جس بندے کو چاہے عطا فرماتا ہے پس ایک تو توراۃ کے احکام کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ان پر غضب نازل ہوا دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کے سبب نازل ہوا۔

یا یوں سمجھ لیجئے کہ پہلا غضب عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر نہ ماننے کی وجہ سے اور دوسرا غضب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر تسلیم نہ کرنے کے سبب۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:278/1] ‏ سدی رحمہ اللہ کا خیال ہے۔ کہ پہلا غضب بچھڑے کے پوجنے کے سبب تھا دوسرا غضب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی بناء پر۔

چونکہ یہ حسد و بغض کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منکر ہوئے تھے اور اس حسد بغض کا اصلی باعث ان کا تکبر تھا اس لیے انہیں ذلیل عذابوں میں مبتلا کر دیا گیا تاکہ گناہ کا بدلہ پورا ہو جائے جیسے فرمان ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [ 40۔ غافر: 60 ] ‏ میری عبادت سے جو بھی تکبر کریں گے وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں متکبر لوگوں کا حشر قیامت کے دن انسانی صورت میں چیونٹیوں کی طرح ہو گا جنہیں تمام چیزیں روندتی ہوئی چلیں گی اور جہنم کے ”بولس“ نامی قید خانے میں ڈال دیئے جائیں گے جہاں کی آگ دوسری تمام آگوں سے تیز ہو گی اور جہنمیوں کا لہو پیپ وغیرہ انہیں پلایا جائے گا۔ [سنن ترمذي:2492، قال الشيخ الألباني:حسن ] ‏

صفحہ نمبر368