Ar-Ra'd
این تفسیری به زبانی غیر از عربی است، همانگونه که در Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) آمده و از نسخهٔ باز دادههای QUL گرفته شده که spa5k/tafsir_api نگه میدارد. اطلاعات ثبتشدهٔ QUL نمیگوید چه کسی آن را نوشته یا ترجمه کرده و از کدام چاپ پیروی میکند، و برای متن مجوزی بیان نمیکند، پس حق نمایش آن تأیید نشده است. کسی آن را با کتاب چاپی مقایسه نکرده و عالمی آن را بررسی نکرده است. هر بخش در کنار آیههایی آمده که دربارهٔ آنها توضیح میدهد و این آیهها متن قرآن از Tanzil است، همانگونه که آنجا هست. سبیل چیزی از آن را ننوشته و ترجمه نکرده است.
متن ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITبرداشتهشده در 2026-10-21
وَقَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْرُ جَمِيعًا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلْكُفَّـٰرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ۴۲
کافروں کے شرمناک کارنامے ٭٭
اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساتھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہو چکی ہے کہ «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» [8-الانفال:30] ” وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہو سکتی ہے؟ “
«وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ» [27-النمل:52-50] ” ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بے خبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کر دیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کر دیا ان کے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں “۔
ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے، پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ «الْكُفَّارُ» کی دوسری قرأت «الْكَافِرِ» بھی ہے۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے، ان کا یا مسلمانوں کا؟
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے۔
صفحہ نمبر4183