پرش به محتوا
کتاب ۷ · احیاء علوم الدین
کتاب ۷ · اردو

حج کا بیان

این ترجمه از آنِ مترجم آن است، نه سبیل. همان‌گونه که منبعش می‌دهد نشان داده می‌شود: زیر هر کتاب، با عنوان‌های خودِ مترجم، به‌صورت متنی جداگانه؛ سطر به سطر در کنار عربی نمی‌ایستد و خطاهای نسخه‌ای را که از آن خوانده شده نگه می‌دارد. سبیل آن را با عربی مقابله نکرده و هیچ عالمی آن را بازبینی نکرده است.

ترجمهٔ Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںخوانده‌شده از dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)برداشته‌شده در 2026-10-22

آنچه منبع دربارهٔ آن می‌گوید: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے کلمۂ توحید کو اپنے بندوں کے لئے پناہ گاہ اور قلعہ بنایا ، اپنے قابل تکریم گھر کعبۃ اللّٰہ المشرفہ کو لوگوں کے لوٹنے اور امن کی جگہ بنایا ، خاص کرتے اور احسان کرتے ہوئے اسے اپنی طرف منسوب کرکے شرف بخشا ، اس کی زیارت و طواف کو بندے اور عذاب کے درمیان پردہ و ڈھال بنایا ، والی ٔ امت ، حضور نبی ٔ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور ان کے آل و اصحاب پر جو حق کی طرف لانے والے اور مخلوق کے سردار ہیں رحمت اور خوب سلام ہو ۔

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے ۔ یہ عمر بھر کی عبادت ، اَنجامِ کار ، اسلام کی تکمیل اور دین کا کمال ہے ۔ اسی کے متعلق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- ( پ ۶ ، المائدۃ :۳) ترجمۂ کنزالایمان :آج میں نے تمہارے لئے تمہارادین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ۔ ‘‘نیز حضور سید دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص (باوجود فرض ہونے کے ) حج کئے بغیر مر جائے تو چاہے یہودی ہو کر مرے ، چاہے عیسائی ہوکر ۔ ‘‘(1 )

وہ عبادت کس قدَرعظمت والی ہے کہ جس کے نہ ہونے سے دین کا کمال ختم ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑنے والا گمراہی میں یہودونصاریٰ کی طرح ہے ۔ پس جب یہ اس قدر اہم عبادت ہے تو زیادہ مناسب ہے کہ اس کی تشریح ، ارکان کی تفصیل ، سنن وآداب اور فضائل واسرار کو بیان کیا جائے اور یہ تمام باتیں توفیقِ الٰہی سے تین ابواب میں واضح ہو جائیں گی ۔ پہلے باب میں حج ، مکہ مکرمہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کے فضائل ، ارکان اور وجوب کی شرائط کا بیان ہے ۔ دوسرے باب میں سفر کی ابتدا سے لوٹنے تک بالترتیب ظاہری اعمال کا بیان ہے ۔ تیسرے باب میں آداب کی بارکیوں ، خفیہ اسرار اور باطنی اعمال کا بیان ہے ۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

باب نمبر1: فضائل حج کا بیان

(اس میں دو فصلیں ہیں )

#**

پہلی فصل: حج ، بیت اللّٰہ ، مکہ ومد ینہ کے فضائل اورمساجد کی

**#

جانب سفر کرنے کا بیان

حج کی فضیلت:

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ(۲۷) ( پ ۱۷ ، الحج :۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان : اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں ۔

حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو لوگوں میں حج کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ندا دی: ’’اے لوگو! بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو ۔ ‘‘

اگلی آیت مبارکہ میں ارشاد ہوتاہے: لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ ( پ ۱۷ ، الحج :۲۸) ترجمۂ کنزالایمان : تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں ۔ منقول ہے کہ اس سے مراد موسمِ حج کی تجارت اور آخرت کا اجر ہے ۔

بعض اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے جب یہ بات سنی تو فرمایا: ’’ربِّ کعبہ کی قسم! ان کی بخشش ہو گئی ۔ ‘‘

قرآن کریم میں ہے:

لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۱۶) ( پ ۸ ، الاعراف :۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان : میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا ۔

اس آیت مقدسہ کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد مکہ کا راستہ ہے ۔ شیطان اس پر بیٹھتا ہے تاکہ لوگوں کو اس سے روکے ۔

فضائل حج پر مشتمل11فرامین مصطفیٰ:

{1}…جس نے حج کیا اور رفث (فحش کلام)اور فسق نہ کیا تو گناہوں سے پاک ہو کر ایسا لوٹا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ۔ (2 )

{2}…شیطان جس طرح یومِ عرفہ میں ذلیل ، حقیر ، دُھتکارا ہوا اور غضب ناک ہوتا ہے ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ نزولِ رحمت اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بڑے بڑے گناہوں کی معافی دیکھتا ہے ۔ (3 )

{3}…منقول ہے کہ ’’کچھ گناہ ایسے ہیں جو صرف وقوفِ عرفہ سے معاف ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (4 ) اس روایت کو حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب کیا ہے ۔

ایک بزرگ اور شیطان کا مکالمہ:

ایک مقرب بارگاہِ الٰہی کابیان ہے کہ ابلیس ملعون میدان عرفات میں اس کے سامنے انسانی صورت میں اس حالت میں ظاہر ہوا کہ دُبلا پتلا ، رنگ زرد ، گریاں چشم اور پیٹھ ٹوٹی ہوئی ہے ۔ انہوں نے پوچھا: ’’تجھے کس چیز نے رُلایا؟‘‘ کہا: ’’حاجیوں کے بغیر نیت تجارت اس (یعنی بیت اللّٰہ شریف)کی طرف نکلنے نے ۔ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے محض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا قصد کیا اور مجھے ڈر ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہیں رُسوا نہیں کرے گا اور یہ بات مجھے غمزدہ کر دیتی ہے ۔ ‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’تیرا جسم اتنا کمزور کیوں ہوگیا ہے؟‘‘ کہا: ’’راہ خدا میں گھوڑوں کے ہنہنانے کی وجہ سے ، حالانکہ مجھے یہ بات زیادہ محبوب تھی کہ یہ میری راہ پرہوتے ۔ ‘‘ پوچھا: تیرا رنگ کیوں بدلا ہوا ہے ۔ ‘‘ اس نے کہا: ’’اطاعت پر لوگوں کے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی وجہ سے ، اگر نافرمانی پر باہم تعاون کرتے تو یہ مجھے زیادہ پسند ہوتا ۔ ‘‘ پوچھا: ’’تیری پیٹھ کیوں ٹوٹی ہوئی ہے؟‘‘ کہا: ’’اس لئے کہ بندہ کہتا ہے: (اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !) میں تجھ سے اچھے خاتمہ کا سوال کرتا ہوں ۔ میں کہتا ہوں : ہائے میری ہلاکت! یہ کب اپنے عمل پر خودپسندی میں مبتلا ہو گا مجھے ڈر ہے کہ کہیں اسے یہ بات

معلوم نہ ہو جائے(کہ اپنے عمل پر اترانا نہیں چاہئے بلکہ رحمت ِ الٰہی کی اُمید رکھنی چاہئے) ۔ ‘‘

{4}…’’جوحج یا عمرہ کے لئے نکلا اور مرگیا تو قیامت تک اس کے لئے حج وعمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جس کا حرمین شریفین میں سے کسی جگہ انتقال ہوا تو اس کی پیشی نہیں ہوگی ، نہ اس کا حساب ہوگا اور اس سے کہا جائے گا: توجنت میں داخل ہو جا ۔ ‘‘ (5 )

{5}…’’حج مقبول دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور حج مقبول کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ ‘‘ (6 )

{6}…’’حج و عمر ہ کرنے والے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا وفد اور اس کی زیارت کرنے والے ہیں ، اگر وہ اس سے سوال کریں تو وہ عطا فرماتا ، اگر معافی چاہیں تو معاف فرماتاہے ، اگردعا کریں تو ان کی دعا قبول ہوتی ہے اور اگر شفاعت کریں تو شفاعت قبول ہوتی ہے ۔ ‘‘ (7 )

{7}…’’لوگوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جو عرفہ میں کھڑا ہو اور یہ گمان کرے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ا س کی مغفرت نہیں فرمائی ۔ ‘‘ (8 )

{8}…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ رحمت ، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ بیت اللّٰہ شریف پر ہر روز120 رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، 60 طواف کرنے والوں کے لئے ، 40 نماز پڑھنے والوں کے لئے اور 20 زیارت کرنے والوں کے لئے ہیں ۔ ‘‘ (9 )

{9}…’’ بیت اللّٰہ شریف کا طواف کثرت سے کرو کیونکہ یہ ان میں سب سے زیادہ قدر ومنزلت والا ہے جنہیں تم

بروزِ قیامت اپنے نامۂ اعمال میں پاؤ گے اور یہ تمہارے اعمال میں سب سے زیادہ قابلِ رشک ہو گا ۔ ‘‘ (10 )اسی لئے حج وعمرہ کے علاوہ طواف مستحب ہے ۔

{10}…’’جس نے ننگے پاؤں اور ننگے سر طواف کے سات چکر لگائے اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے بارش میں طواف کے سات چکر لگائے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ ‘‘ (11 )

منقول ہے کہ ’’جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عرفات میں کسی بندے کے گناہ بخشتا ہے تو وہاں پہنچنے والے ہر شخص کے گناہ بھی بخش دیتا ہے ۔ ‘‘

دو عیدیں :

بعض بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : ’’عرفہ(یعنی نویں ذوالحجہ) کا دن جمعہ کو آ جائے تو تمام اہلِ عرفہ کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور وہ دنیا میں سب سے افضل دن ہوتا ہے ۔ اسی دن حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع ادا فرمایا اور میدان عرفات ہی میں تھے کہ یہ آیت ِ مبارَکہ نازل ہوئی: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- (پ۶ ، المائدہ :۳)

ترجمۂ کنزالایمان : آج میں نے تمہارے لئے تمہارادین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ۔

اہلِ کتاب نے کہا: ’’اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے ۔ ‘‘ تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں گواہی دیتاہوں کہ یہ آیت ِ مبارَکہ دو عیدوں یعنی یوم عرفہ اور جمعہ کے دن حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرنازل ہوئی اور آپ عرفہ میں وقوف فرما تھے ۔ ‘‘ (12 )

۴۰ از ۸۹۲
متن عربی
كتاب أسرار الحج

متن ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472برداشته‌شده در 2026-10-21

این متن عربی «احیاء علوم الدین» غزالی است، چنان‌که در پیکرهٔ OpenITI آمده، از نسخهٔ شامله از چاپ دارالمعرفه. کسی آن را با کتاب چاپی یا نسخهٔ خطی مقابله نکرده و هیچ عالمی آن را بازبینی نکرده است. پیکره می‌گوید در برخی صفحات بخشی از متن افتاده و پانوشت‌های مصحح با متن آمیخته است؛ هر دو همان‌گونه که هست نشان داده می‌شود. پایان هر صفحهٔ چاپ نشان‌گذاری شده است. ترجمه‌ها از آنِ مترجمانشان است؛ هر یک از نسخه‌ای که نامش در کنار آن آمده خوانده شده و زیر هر کتاب، با عنوان‌های خودِ مترجم، به‌صورت متنی جداگانه نشان داده می‌شود: هیچ‌یک سطر به سطر در برابر عربی نهاده نشده، ترجمهٔ انگلیسی کریم چنان‌که مترجمش می‌گوید کتاب را خلاصه می‌کند، و هر یک خطاهای نسخه‌ای را که از آن خوانده شده نگه می‌دارد. سبیل چیزی ترجمه نکرده، هیچ ترجمه‌ای را با عربی مقابله نکرده و هیچ عالمی هیچ‌یک را بازبینی نکرده است.